MCKJ Constitution


دفعہ نمبر1۔ نام، مونوگرام و مخفف: دفعہ نمبر1شق نمبر1 جماعت کا نام "مسلمان کچھی کھتری جماعت، کراچی "
"MUSALMAN CUTCHI KHATRI JAMAT, KARACHI" ہوگا۔ دفعہ نمبر1شق نمبر2
جماعت کا مونو گرام مندرجہ ذیل مہر کے مطابق ہوگا۔
> دفعہ نمبر2۔ جماعت کا دفتر/دفاتر: جماعت کا دفتر/دفاتر جماعت کی مقرر کردہ عمارت/عمارات میں ہوگا/ہوں گے اور جماعت کے تمام دفتری امورانہی دفتر/دفاتر میں انجام دیئے جائیں گے۔
> دفعہ نمبر3۔ مذہب: جماعت کے ہر ممبر کا مذہب "اسلام"ہوگا اور اس کے لئے لازم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر کامل یقین اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہوگا۔
> دفعہ نمبر4۔ جماعت کا بنیادی مقصد: جماعت کے قیام کا بنیادی مقصدممبران کی نسلی صفات کو برقرار رکھنا، اُس کی حفاظت کرنا اور انتظامی طور پر اسکی ترویج کرنا ہوگا، جس کے لئے جماعت کی ممبرشپ کی اساس کا بنیادی نقطہ یہ ہوگا کہ ہر ممبر مسلمان ہو اور اُس کے دادا، دادی، نانا اور نانی خالصتاً کچھی کھتری ہوں۔
> دفعہ نمبر5۔ زبان: جماعت کی مادری زبان کچھی ہوگی جبکہ دفتری زبان اردو، انگریزی اور گجراتی ہوگی۔
>
دفعہ نمبر6۔ اصطلا حات اور ان کی وضاحت:
دفعہ نمبر6شق نمبر1 لفظ"آئین "کو مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کا آئین سمجھا جائے گا۔
دفعہ نمبر6شق نمبر2 لفظ "جماعت" سے مراد، اجتماعی طور پر برادری کے وہ تمام ممبر / ممبران/خاندان، جو مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی سے تعلق رکھتے ہوں۔
دفعہ نمبر6شق نمبر3 لفظ"ممبر"کو مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کا ممبر سمجھا جائے گا۔ ممبر شپ کے لئے عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں۔ البتہ فیملی کے ہر ممبر کا اندراج فیملی رجسٹریشن کارڈ میں لازمی ہوگا۔
دفعہ نمبر6شق نمبر4 لفظ"ووٹنگ ممبر"مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کے ایسے مرد ممبر کو سمجھا جائے گا جس کی عمر پورے اٹھارہ برس یا اس سے زائد ہواور وہ جماعت کے جاری کردہ شناختی کارڈ کا حامل ہو۔
دفعہ نمبر6شق نمبر5 لفظ"منیجنگ کمیٹی"کو مسلمان کچھی کھتری جماعت، کراچی کی منیجنگ کمیٹی/آگیوان کمیٹی سمجھا جائے گا۔
دفعہ نمبر6شق نمبر6 لفظ "ذیلی کمیٹی/کمیٹیز"کو مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کی ذیلی کمیٹی/کمیٹیز سمجھا جائے گا جوکسی بھی امر/امور کی انجام دہی کے لئے بنائی جائیں یا مقر ر کی جائیں۔
دفعہ نمبر6شق نمبر7 لفظ"حقوق پربندش" کی وضاحت: جماعت کا کوئی ایسا ممبر/ممبران /خاندان، جن کے حقوق پر بندش لگائی گئی ہو، وہ جماعت کی تمام تقریبات میں لین دین کے مجاز نہیں ہوں گے۔ جنرل باڈی و دیگر خصوصی میٹنگز میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ جماعت کے صدر کے انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل نہیں ہونگے۔ وہ اپنے کسی بھی نوعیت کے مسائل کے حل کیلئے جماعت /مینیجنگ کمیٹی سے رجوع نہیں کر سکیں گے نیز وہ جماعت کی طرف سے مہیا کی گئی سہولیات سے بھی مستفیض نہیں ہو سکیں گے۔ اِس شق کا اطلاق موجبِ بندش بننے والے ممبر/ممبران/خاندان کی طبعی زندگی تک محدود ہوگا۔
دفعہ نمبر6شق نمبر8 جماعت کا دائرہ کار: جماعت کی حد کراچی میں شامل تمام علاقوں تک ہوگی۔تاہم جماعت کو ان حدود میں بوقت ضرورت تنسیخ وتوسیع کرنے کااختیارحاصل ہوگا۔
دفعہ نمبر6شق نمبر9 لفظ"نکھ"گوتر۔گوت۔خاندانی سلسلہ۔عربی میں آل اور آباؤ اجداد سے آیا ہوا وہ سلسلہ ہے، جس سے ممبر کے خاندانی سلسلے کا پتہ چل سکے۔
دفعہ نمبر6شق نمبر10 لفظ"اوڑکھ" کسی ممبر یا خاندان کی ایسی پہچان /خاندانی نام، جو اُن کی شناخت ہو۔
دفعہ نمبر6شق نمبر11 لفظ"خاندان" ایسے ممبر/ ممبران، جن کے نام جماعت کے ایک ہی فیملی کارڈ میں درج ہوں وہ ایک خاندان تصور کیا جائے گا۔
دفعہ نمبر6شق نمبر12 لفظ "فیملی رجسٹریشن کارڈ" ایسی دستاویز کو سمجھا جائے گا، جس میں ایک ہی خاندان کے ممبر/ممبران کے شادی بیاہ، پیدائش، اموات، طلاق و خلع اور سالانہ تجدید کا جامع ریکارڈ موجود ہو۔
دفعہ نمبر6شق نمبر13 لفظ"شناختی کارڈ" جماعت کی منیجنگ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ وہ دستاویز ہے، جس سے ممبر کی شناخت ہو سکے، ایسی دستاویز کوجماعت کا شناختی کارڈ سمجھا جائے گا۔
>
دفعہ نمبر7۔ جماعت کے بنیادی اصول :
دفعہ نمبر7شق نمبر1 آئین میں کوئی ایسی دفعہ/شق نہیں رکھی جائے گی جو اسلام کے بنیادی عقائد اور قوانین کے منافی ہو۔
دفعہ نمبر7شق نمبر2 جماعت کے ممبران کی نسل اور اصلیت کو برقرار رکھا جائے گا۔
دفعہ نمبر7شق نمبر3 جماعت کی سلامتی،عظمت، وقار اور اتحاد و یگانگت کو برقرار رکھا جائے گا۔
دفعہ نمبر7شق نمبر4 جماعت کے مروجہ آئین کے مطابق ہر ممبر کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور جماعتی معاملات میں ہر ممبرکے ساتھ منصفانہ سلوک روا رکھا جائے گا۔
دفعہ نمبر7شق نمبر5 جماعت، کسی بھی بلدیاتی، صوبائی یا قومی الیکشن/سیاست میں اپنی رائے یا پسندیدگی / نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کر سکے گی اور نہ ہی کسی بھی سیاسی جماعت، تنظیم یا گروہ سے وابستگی ظاہر کرے گی۔
دفعہ نمبر7شق نمبر6 جماعت کے ہر ممبر کو اِس آئین کی روح کے مطابق "جمہوری آزادی"حاصل رہے گی۔
>
دفعہ نمبر8۔ جماعت کے اغراض و مقاصد:
دفعہ نمبر8شق نمبر1 جماعت کے ممبران کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرنا،خوشی و غمی کے مواقع پر رسوم و رواج کا تعین کرنا۔
دفعہ نمبر8شق نمبر2 جماعت کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے اسکول، دینی مدارس، فنی درسگاہ، کتب خانے، دوا خانے، ہسپتال، زچہ وبچہ خانہ، گھریلو صنعتیں، رہائشی اسکیمیں اورقبرستان کا انتظام اور اُن کا نظم و نسق چلانا۔
دفعہ نمبر8شق نمبر3 جماعت کے موجودہ و نئے سماجی و فلاحی اداروں کے ساتھ ممکنہ تعاون کرنا۔
دفعہ نمبر8شق نمبر 4 جماعت کے ممبر/ ممبران میں بے روزگاری دور کرنے کی کوشش کرنا، ضرورت مند افراد کی مالی امداد کے لئے پوئر فنڈ، زکوٰۃفنڈ، چرم قرباں حاصل کرنااور تعمیرات / تزئین و آرائش کے لئے تعمیراتی فنڈوقبرستان فنڈ اورمنگنی و شادی کے موقع پر لاگا و دیگر عطیات وصول کرنا۔
دفعہ نمبر8شق نمبر5 جماعت کے ممبران کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا، تعلیمی رجحان میں اضافے کیلئے منصوبہ بندی کرنا، کاروباری اور ہنرمند ممبران کی معاشی ترقی و توسیع کے لئے ممکنہ مواقع فراہم کرنا، ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنا۔
دفعہ نمبر8شق نمبر6 جماعت کے جملہ ممبران سے متعلق منگنی، شادی بیاہ، پیدائش و اموات، طلاق و خلع کا جامع تحریری وکمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھنا۔ مقررہ فیملی رجسٹریشن کارڈ / فارم جاری کرنااور ان کی تجدید کرنا اور جماعت کے شناختی کارڈ کا اجراء وتجدید کرنا۔
>
دفعہ نمبر9۔ جماعت کا مالی سال:
دفعہ نمبر9شق نمبر1 جماعت کا مالی سال یکم جنوری تا ۱۳ دسمبر ہوگا۔
>
دفعہ نمبر10۔ ممبران کی اہلیت اور فرائض:
دفعہ نمبر10شق نمبر1 صرف وہ مسلمان کچھی کھتری، جن کے نانا، نانی، دادا، دادی خالصتاً کچھی کھتری ہوں، جماعت کے ممبران بن سکیں گے جیسا کہ شق نمبر ۴ میں مکمل و جامع تشریح کی گئی ہے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر2 مستقل ممبر: جماعت کا مستقل ممبر اُس ممبر کو سمجھا جائے گا، جو جماعت کے آئین کے مطابق اپنے فیملی رجسٹریشن کارڈ کی تجدید، مقررہ فیملی رجسٹریشن کارڈ پر اپنے نام کے اندراج کے ساتھ بمعہ رائج الوقت فیس اداکر کے کرائے گا۔اس کے علاوہ اپنے خاندان میں شادی بیاہ، پیدائش اور اموات، طلاق و خلع کے متعلقہ اندراجات بھی اپنے فیملی رجسٹریشن کارڈ میں کروائے گا۔جماعت کی سالانہ فیس کا اطلاق اُن تمام ووٹنگ ممبران پر ہوگا جن کی عمر ۸۱ سال یا اس سے زائد ہو۔
دفعہ نمبر10شق نمبر3 عارضی ممبر (الف) مختصر مدت کے لئے کوئی بھی فرد/افراد/خاندان، جن کی رہائش کراچی سے باہر ہو اور جو آئین کی دفعہ10 کی شق نمبرI پر پورا اُترتے ہوں، ایسے فرد/افراد/خاندان مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی کی عارضی ممبر شپ حاصل کرنے کے مجازہونگے۔ اِس امر کے لئے وہ جماعت کی منیجنگ کمیٹی کو تحریری درخواست دیں گے اور منیجنگ کمیٹی مقررہ طریقہ کار کے مطابق ان کو عارضی ممبر شپ دے گی اور وہ عارضی ممبرز سمجھے جائیں گے۔ ایسے عارضی ممبرز جماعت کے مروجہ آئین کے مطابق خوشی و غمی سے متعلق امور انجام دے سکیں گے مگراُن کے لئے لازم ہوگا کہ وہ جس جگہ سے آئے ہوں،وہاں کی جماعت کے قصوروار نہ ہوں۔ اِس مقصد کے لئے ایسے عارضی ممبر/ممبران/خاندان، وہاں کی جماعت کا تصدیق نامہ جماعت کے مقرر کردہ نمائندے کی دستخط کے ساتھ مہیا کریں گے اور کراچی جماعت کے دو ایسے ووٹنگ ممبرز، جو سربراہ خاندان بھی ہوں، اِس بات کی تحریری ضمانت مہیا کریں گے کہ مذکورہ ممبر/ممبران/خاندان، آئین کی دفعہ10 کی شق نمبر I پر پورا اترتے ہیں اور وہ وہاں کی جماعت کے کسی بھی طرح قصوروار نہیں ہیں۔ ایسے عارضی ممبر/ممبران/خاندان، جماعت کی جنرل باڈی میٹنگ میں شریک ہو سکیں گے مگر انہیں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ ایسی عارضی ممبر شپ کی میعاد پانچ (۵) سال ہوگی۔ اگر اس عارضی مدت کے بعد، وہ مستقل ممبر بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو اُن پر مندرجہ ذیل شق (ب) کا اطلاق ہوگا۔ (ب) وہ عارضی ممبر/ممبران/خاندان، جو کراچی کی جماعت کا مستقل ممبر بننے کا ارادہ رکھتے ہوں، اُنہیں عارضی ممبر شپ ملنے کے بعد، کم از کم ۵ سال تک کراچی میں رہائش اختیار کرنا لازم ہوگا اور اس سلسلے میں کراچی میں ۵ سالہ رہائش سے متعلق تمام دستاویزی ثبوت مہیا کرنے ہونگے۔ عارضی ممبر شپ کی مقرر ہ میعاد کی تکمیل کے بعد وہ مستقل ممبر شپ حاصل کرنے کی درخواست داخل کرنے کے اہل ہونگے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر4 ووٹنگ ممبر: جماعت کے وہ تمام مرد ممبران، جن کی عمر ۸۱ برس یا اس سے زائد ہو اور جو اپنے فیملی رجسٹریشن کارڈ میں اپنے نام کی سالانہ تجدید کروا چکے ہوں، ووٹنگ ممبر کہلائیں گے۔ البتہ حقِ رائے دہی کے استعمال کے لئے لازم ہوگا کہ ایسے ووٹنگ ممبر کے پاس جماعت کا مؤثرشناختی کارڈ موجود ہو۔
دفعہ نمبر10شق نمبر5 تمام ووٹنگ ممبران کی یہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ جماعت کے کسی بھی انتخابات کے وقت اپنا حق رائے دہی (ووٹ) ضرور استعمال کریں۔
دفعہ نمبر10شق نمبر6
وہ تمام ممبران جن کا نام اُن کے فیملی کارڈ میں بطور سربراہ درج ہے، اُن پر لازم ہوگاکہ مذکورہ کارڈ میں شامل جملہ ووٹنگ ممبران کی سالانہ فیس کی بروقت ادائیگی کردیں۔
دفعہ نمبر10شق نمبر7 جماعت کے ہر ممبر کو یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ جماعت کی طرف سے فراہم کردہ مراعات
سے مستفیض ہو۔
دفعہ نمبر10شق نمبر8 جماعت کے ہر ووٹنگ ممبر کو یہ حق حاصل رہے گاکہ وہ جماعت کی جنرل باڈی میٹنگ یا کسی خاص میٹنگ
میں اپنے خیالات کا اظہار کرسکے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر9 جماعت کے ہر ممبر کو یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ جماعت کی بھلائی، ترقی اور وقار کی سربلندی کے لئے پرچار
اور اپنی تجاویز و صلاح و مشورے کے لئے مینیجنگ کمیٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر10 جماعت کے ہر ممبر پر یہ لازم ہوگا کہ وہ مینیجنگ کمیٹی کی طرف سے موصول ہونے والی زبانی یاتحریری اطلاع پر مقررہ وقت کے مطابق، مینیجنگ کمیٹی کے سامنے حاضر ہو۔ غیر حاضری کی صورت میں تحریری طور اطلاع پر مقررہ وقت کے مطابق، مینیجنگ کمیٹی کے سامنے حاضر ہو۔ غیر حاضری کی صورت میں تحریری طور
پر قابلِ قبول عذر پیش کرے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر11 جماعت کے تمام ممبران کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ جماعت خانہ کے اندر یا باہر ہر طرح کی میٹنگ و تقریبات میں شائستگی اور رواداری کا خیال رکھیں اور کسی ایسے فعل کے مرتکب نہ ہوں جس سے ممبران کی انفرادی یاجماعت کی اجتماعی عزت پر کوئی حرف آئے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر12
جماعت کے آئین پر مکمل طورپر عمل کرنا اور کروانا ہر ممبر کا فرض ہے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر13 جماعت کے کسی بھی ممبر/ممبران/خاندان کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ جماعت کے کسی بھی امر/امور سے متعلق جماعت، مینیجنگ کمیٹی و اِن کی تشکیل کردہ ذیلی کمیٹیوں، اُن کے عہدیداروں، عام و اعزازی ممبران کے خلاف کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری پنچائیت کمیٹی میں شکایت اور کسی بھی قسم کی عدالت میں مقدمہ دائر کرے اور نہ ہی پرنٹ/الیکٹرانک/سوشل میڈیا پر کسی قسم کی خبر جاری کرے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں مینیجنگ کمیٹی کو پورا حق حاصل ہوگا کہ وہ ایسے کسی ممبر / ممبران/خاندان پر جرمانہ یا کسی قسم کی
کوئی تادیبی کاروائی عمل میں لا سکتی ہے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر14 جماعت کے تمام ممبران کا فرض ہے کہ جو ممبر/ ممبران / خاندان جماعت سے خارج کردیئے گئے ہوں یاان پروقتی طورپر ایسی کوئی پابندی جماعت یا منیجنگ کمیٹی کی طرف سے عائد کی گئی ہو، ان ممبر/ ممبران/
خاندان سے کسی بھی قسم کا جماعتی تعلق نہیں رکھیں گے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو جماعت کے قصور وار ہوں گے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر15 جماعت سے خارج شدہ ممبر/ ممبران / خاندان، اگر جماعت میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہوں،تو وہ جماعت کے کسی بھی دیگر سربراہ خاندان کی معرفت صدر ومینیجنگ کمیٹی کے نام ایک تحریری درخواست دیں گے، جس میں خارج شدہ ممبر/ممبران/خاندان کی طرف سے جماعت سے خارج ہونے کی وجوہات کے ازالہ کی یقین دہانی کروائی گئی ہو۔ اس درخواست پر مینیجنگ کمیٹی غور کرکے اور مناسب تادیبی کاروائی عمل میں لاکر مذکورہ ممبر / ممبران/خاندان کی رکنیت بحال کرسکتی ہے اور اس ضمن میں اگر مینیجنگ کمیٹی ضروری سمجھے تو جماعت کی جنرل باڈی میٹنگ / خصوصی میٹنگ بھی بلاسکتی ہے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر16 جماعت کے کسی بھی ووٹنگ ممبر کے غیر برادری یا غیر قوم میں شادی کرنے پر، وہ خود تو جماعت کا ممبر کہلائے گا مگر اُس کی وہ بیوی/بیویاں اور اُن سے پیدا شدہ بچے، انتظامی طور پر جماعت کی ممبر شپ
حاصل کرنے کے اہل نہیں ہونگے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر17 جماعت کا کوئی بھی ممبر/ ممبران جو جماعتی امور سے متعلق مینیجنگ کمیٹی کے سامنے مدعی، مدعا علیہ یا گواہ کے طور پر پیش ہوں اس بات کے پابند ہوں گے کہ مذکورہ امور سے متعلق کئے گئے فیصلوں پر اپنے دستخط
ثبت کریں۔
دفعہ نمبر10شق نمبر18 فیملی رجسٹریشن کارڈ کی تجدید: (الف) اگر جماعت کے فیملی رجسٹریشن کارڈ کی تجدید کی مقررہ تاریخ کے ختم ہونے تک جو ممبر /ممبران /خاندان اپنے کارڈ کی تجدید نہیں کروائیں گے تو ان کے حقوق معطل ہو جائیں گے۔حقوق کا یہ تعطل سالانہ ممبرشپ فیس، کارڈ فیس اور لیٹ فیس کی ادائیگی پر ختم ہوجائے گااور مسلسل تین سال تک فیملی کارڈ کی تجدید نہ کروانے پر 45 دن قبل، مذکورہ ممبر/ممبران /خاندان کو اس بات کی تحریری اطلاع دی جائے گی سالانہ ممبرشپ فیس، کارڈ فیس اور لیٹ فیس کی ادائیگی پر ختم ہوجائے گااور مسلسل تین سال تک فیملی کارڈ کی تجدید نہ کروانے پر 45 دن قبل، مذکورہ ممبر/ممبران /خاندان کو اس بات کی تحریری اطلاع دی جائے گی کہ وہ اپنے فیملی رجسٹریشن کی منسوخی سے بچنے کے لئے فیملی کارڈ کی تجدید کروالیں۔بصورتِ دیگر کارڈ کی منسوخی کی صورت میں وہ جماعت کے ممبر نہیں سمجھے جائیں گے۔ (ب) ایسے ممبر/ممبران/خاندان جن کے فیملی رجسٹریشن کارڈ منسوخ کردیئے گئے ہوں اور وہ دوبارہ اپنا فیملی رجسٹریشن کارڈ اور ممبر شپ کو بحال کرنا چاہتے ہوں، تو اِس مقصد کے حصول کے لئے صدر و مینیجنگ کمیٹی کے نام ایک درخواست بذاتِ خود، دفتر میں جمع کروائیں گے اور مینیجنگ کمیٹی کو پورا حق حاصل ہوگاکہ وہ ایسے ممبر/ممبران /خاندان پر جرمانہ یا کسی قسم کی کوئی تادیبی کاروائی عمل میں لاکر ایسے ممبر/ممبران /خاندان
کا فیملی رجسٹریشن کارڈ بحال کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر10شق نمبر19 کسی بھی ممبر/ ممبران/ خاندان کو کسی بھی امر کیلئے خصوصی جنرل باڈی اجلاس / ریکوزٹ اجلاس بلانے کا اختیار ہوگا مگر اس کیلئے مذکورہ ممبر/ ممبران/ خاندان پر لازم ہوگا کہ وہ ایسا اجلاس بلانے کیلئے کم از کم 101 ووٹنگ ممبران کی توثیق و دستخط بمعہ تجدید شدہ فیملی کارڈ رجسٹریشن نمبر کے، جماعت کے صدر و مینیجنگکمیٹی کے نام درخواست جمع کروائیں گے۔ ایسی میٹنگ کے انعقاد کی صورت میں مذکورہ ممبر / ممبران/ خاندان کی شرکت ضروری ہوگی نیز101 دستخط کنند ہ ووٹنگ ممبران میں سے بھی کم از کم 75 فیصد ارکان کی حاضری
کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپر جنرل باڈی میٹنگ کا کورم 150 افراد پر مشتمل ہوگا۔
دفعہ نمبر10شق نمبر20 فیملی رجسٹریشن کارڈ کی تجدید کی تاریخ کے ختم ہونے کے بعد مذکورہ کارڈ یا جماعت کے رجسٹر و کتابچوں میں منگنی، شادی بیاہ، پیدائش و اموات اور طلاق و خلع سے متعلق کسی قسم کا اندراج نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی کسی قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی تاوقتیکہ فیملی کارڈ کی تجدید نہ کروالی جائے۔
کسی قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی تاوقتیکہ فیملی کارڈ کی تجدید نہ کروالی جائے۔
>
دفعہ نمبر11۔ جماعت کے اختیارات:
دفعہ نمبر11شق نمبر1 جماعت، آئینی طورپر ہر لحاظ سے مکمل طورپر بااختیار اور خود مختار ہوگی۔
دفعہ نمبر11شق نمبر2 جماعت کے جملہ منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات کی خریدو فروخت، تعمیرات، لین دین اور دیکھ بھال کا مکمل اختیارجماعت کو حاصل رہے گا۔ نیز جماعت جب چاہے مذکورہ اختیار، جزوی یا کلی، جماعت کے کسی بھی فرد/ افراد /کمیٹی کو دے سکتی ہے۔
دفعہ نمبر11شق نمبر3 اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا احاطہ/ خلاصہ اس آئین میں نہ کیا گیا ہو،تو ایسے معاملے کے حل کے لئے جماعت سے رجوع کیا جائے گا۔
دفعہ نمبر11شق نمبر4
جماعت کو نا گزیر و ہنگامی صورت حال میں جماعت کا صدر نامزد کرنے اور منتخب کرنے کا اختیار ہوگا۔
دفعہ نمبر11شق نمبر5 اگر جماعت کا کوئی بھی ممبر/ ممبران/ خاندان جماعت کے کسی بھی امر/امور سے متعلق جماعت، جماعت کے صدر و منیجنگ کمیٹی و اِن کی تشکیل کردہ کسی بھی ذیلی کمیٹیوں، اُن کے عہدیداروں، عام و اعزازی ممبران کے خلاف، کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری پنچائیت کمیٹی میں شکایت یا کسی بھی قسم کی عدالت میں مقدمہ دائر کرے گا یا کسی پرنٹ/الیکٹرانک/سوشل میڈیا پر خبر جاری کرے گا تو جماعت ایسے ممبر/ممبران/خاندان کو فوری طور پر جماعت کی ممبر شپ سے خارج کر سکتی ہے نیز اس طرح دائر کئے گئے
مقدمہ کی جوابی چارہ جوئی/مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔
دفعہ نمبر11شق نمبر6 کسی بھی فوری امر/ امور کے لئے101 ووٹنگ ممبران کے دستخطوں سے بلائی گئی جنرل باڈی میٹنگ/ اسپیشل میٹنگ/ریکوزٹ میٹنگ میں اگر دستخط کنندہ افراد میں سے75 فیصد حاضر نہ ہوں توصدر کو اختیار
ہوگا کہ وہ ایسی میٹنگ کو منعقد کئے بغیر برخواست کر دے۔
دفعہ نمبر11شق نمبر7 اگر آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم/ ترامیم /اضافہ/ معطلی کی ضرورت محسوس ہو تو اس مقصد کے لئے بلائی گئی جنرل باڈی / اسپیشل میٹنگ کا کورم 300مرد ووٹنگ ممبران پر مشتمل ہوگا اور کورم پورا ہونے کے بعدحاضر ووٹنگ ممبران میں سے دو تہائی(۳/۲) کی اکثریت ایسی ترمیم/ ترامیم/اضافہ/ معطلی کی
مجاز ہوگی۔
دفعہ نمبر11شق نمبر8 اگر آئین کے مطابق جنرل باڈی میٹنگ/ اسپیشل میٹنگ /ریکوزٹ میٹنگ بلائی گئی ہو اور ایسی میٹنگ کے انعقاد کے خلاف کوئی درخواست آئے تو ایسی درخواست خلاف آئین قرار دی جائے گی اور اس پر غور نہیں
کیا جائے گا۔
>
دفعہ نمبر12۔ مینیجنگ کمیٹی کی تشکیل: جماعت کی مینیجنگ کمیٹی درج ذیل ووٹنگ ممبران پر مشتمل ہوگی:۔ (1) صدر(2) نائب صدر(3) جنرل سیکریٹری (4) جوائنٹ سیکریٹری (5) خزانچی (6) پوئر فنڈ سیکریٹری (7) چیئرمین برائے تعلیمی امور 8) (چیئرمین برائے رسوم و رواج (9) منیجنگ کمیٹی کے اعزازی ممبران کی تعداد صدر کی صوابدید پر منحصر ہوگی۔ مذکورہ بالا عہدیداران کے لئے لازم ہوگا کہ وہ جماعت کے کسی بھی دوسرے فلاحی و سماجی ادارے کی مینیجنگ کمیٹی کے عہدیدار/رکن نہ ہوں البتہ یہ پابندی اعزازی ممبران پر لاگو نہیں ہوگی۔
>
دفعہ نمبر13۔ صدر کے انتخابات:
دفعہ نمبر13شق نمبر1
صدر کا انتخاب جنرل جماعت کرے گی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر2
صدر کے انتخاب کے لئے صرف ووٹنگ ممبران اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔
دفعہ نمبر13شق نمبر3
صدر کا انتخاب بذریعہ بیلٹ ہوگا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر4 جماعت کے صدر کے انتخابات کے لئے، موجودہ صدر انتخابات کے انعقاد سے 3 ماہ قبل، انتخابی کمیٹی کی تشکیل کے لئے ایک چیئرمین برائے انتخابی کمیٹی نامزد کرے گا۔ یہ انتخابی کمیٹی کل پانچ (۵) ارکان پر مشتمل ہوگی اور بقیہ ۴ اراکین متعین کرنے کا اختیار چیئرمین انتخابی کمیٹی کو حاصل ہوگا۔ انتخابی کمیٹی کے
چیئرمین اور دیگر ۴ ارکان کے لئے لازم ہوگا کہ وہ فعال ووٹنگ ممبر ہوں۔
دفعہ نمبر13شق نمبر5
یہ انتخابی کمیٹی منتخب صدر کے حلف اٹھا تے ہی تحلیل سمجھی جائے گی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر6 یہ پانچ رکنی انتخابی کمیٹی، موجودہ صدر کے زیرِ انتظام ہوگی مگر انتخابی امور سے متعلق مکمل طور پر بااختیار و خود
مختار ہوگی نیزآئین میں درج طریقہ کار کے مطابق انتخابات کے انعقاد کی پابند ہوگی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر7 صدر کے انتخابات کے لئے پولنگ، ہر تین سالوں بعد ماہ ستمبر (September)کے کسی بھی ہفتہ واری یا
سرکاری تعطیل کو ہوگی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر8 انتخابی کمیٹی، انتخابات کے انعقاد کے لئے مناسب تشہیر کرے گی اور صدر کے عہدے کے لئے نامزدگیاں
طلب کرے گی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر9
نامزدگیاں، انتخابات کے انعقاد کی مجوزہ تاریخ سے ۵۱ روز قبل تک وصول کی جائیں گی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر10 اگر مقررہ مدت کے دوران صدر کے عہدے کے لئے محض ایک ہی نامزدگی آئے اور کاغذات نامزدگی
درست پائے جائیں تو اُس نامزدگی کو بلا مقابلہ منتخب صدر سمجھا جائے گا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر11
ایک سے زیادہ درست نامزدگیوں کی صورت میں پولنگ کا انعقاد عمل میں آئے گا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر12 پولنگ کے انعقاد کے لئے ووٹنگ ممبران کی فہرست کی تیاری، بیلٹ پیپر کی چھپائی اور دیگر متعلقہ امور
انتخابی کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر13
انتخابی کمیٹی کا کوئی بھی ممبر جماعت کے صدر کے لئے نامزدگی داخل نہیں کرسکتا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر13
انتخابی کمیٹی کا کوئی بھی ممبر جماعت کے صدر کے لئے نامزدگی داخل نہیں کرسکتا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر14
انتخابی کمیٹی کے ارکان اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔
دفعہ نمبر13شق نمبر15 انتخابی کمیٹی کے ارکان صدارتی امیدوارں کی کسی بھی قسم کی حمایت (Canvassing)نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی کسی امیدوار کا بیج/ا سٹیکر اپنے جسم یا کپڑوں پر آویزاں کرسکیں گے اور نہ ہی ا ن کے الیکشن کیمپ
میں بلا وجہ جاسکیں گے۔
دفعہ نمبر13شق نمبر16
انتخابی بے قاعدگیوں سے متعلق عذر داریاں اور شکایات انتخابی کمیٹی تحریری طور پروصول کرے گی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر17 اس نوعیت کی کوئی بھی عذر داری/ شکایات پولنگ کے دوران یا پولنگ کے اختتام کے بعد دو (2)روز
کے اندر داخل کرنا لازمی ہوگا۔ بعد ازمعینہ مدت، کوئی عذرداری قابل قبول نہ ہوگی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر18 ایسی تمام عذرداریوں / شکایتوں سے نمٹنے کا اختیار انتخابی کمیٹی کو ہوگا تاہم ہنگامی صورتِ حال میں موجودہ
صدر سے بھی مشورہ کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر13شق نمبر19 ایسی تمام عذرداریوں / شکایتوں سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار انتخابی کمیٹی کو ہوگا اور یہ فیصلہ حتمی تصور کیا
جائے گا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر20
نو منتخب صدر کے لئے لازم ہوگا کہ وہ اپنی حلف برداری کے بعد، اُسی تقریب کے دوران اپنی مجوزہ مینیجنگ
دفعہ نمبر13شق نمبر20
نو منتخب صدر کے لئے لازم ہوگا کہ وہ اپنی حلف برداری کے بعد، اُسی تقریب کے دوران اپنی مجوزہ مینیجنگ کمیٹی کا اعلان کریگا اور اُس مینیجنگ کمیٹی سے حلف لینے کا پابند ہوگا۔ یہ مینیجنگ کمیٹی آئین کی دفعہ نمبر12
کے تحت تشکیل دی جائے گی۔
دفعہ نمبر13شق نمبر 21 موجودہ صدر، نو منتخب صدر کو 30 یوم(ایک ماہ) کے اندر چارج دینے کا پابند ہوگا اسی طرح نو منتخب صدر،
موجودہ صدر سے 30 یوم (ایک ماہ) کے اندر چارج لینے کا پابند ہوگا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر22 صدارتی انتخاب کے تمام امیدواروں اور انتخابی کمیٹی کے ارکان کے لئے لازمی ہوگا کہ ان پرجماعت کے کسی قسم کے واجبات نہ ہوں اور نہ ہی وہ جماعت کے آئین کے لحاظ سے قابل تعذیر ہوں۔
دفعہ نمبر13شق نمبر23 نومنتخب صدر سے عہدے کا حلف انتخابی کمیٹی کا چیئرمین لے گا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر24 منیجنگ کمیٹی کے دوسرے تمام عہدیداران و اعزازی ممبران سے ان کے عہدوں کا حلف،
نو منتخب صدر لے گا۔
دفعہ نمبر13شق نمبر25 انتخابی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ، کسی بھی ناگزیر وجوہ کی بناپر یا کسی بھی نا گہانی حادثہ (FORCE MAJEURE) کی صورت میں انتخابات ملتوی کرکے نئی تاریخ کا اعلان کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر14۔ حلف نامہ برائے صدر: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ ا للہ کے آخری رسولؐ ہیں۔ میں......................................................... ولد....................................................... اوڑکھ....................................................... اس بات کا حلفیہ اقرار کرتا ہوں:۔ کہ مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کے صدر کے عہدے کے لئے مجھے اپنا انتخاب برضاورغبت قبول ہے۔
٭ کہ میں جماعت کے آئین کو تسلیم کرتا ہوں اور خود بھی اس آئین پر عمل کروں گا اور دوسروں کو بھی اس پر
>
دفعہ نمبر14۔ حلف نامہ برائے صدر: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ ا للہ کے آخری رسولؐ ہیں۔ میں......................................................... ولد....................................................... اوڑکھ....................................................... اس بات کا حلفیہ اقرار کرتا ہوں:۔ کہ مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کے صدر کے عہدے کے لئے مجھے اپنا انتخاب برضاورغبت قبول ہے۔ ٭ کہ میں جماعت کے آئین کو تسلیم کرتا ہوں اور خود بھی اس آئین پر عمل کروں گا اور دوسروں کو بھی اس پر کاربند رکھنے کی کوشش کروں گا۔ ٭ کہ میں جماعت کے آئین میں دیئے گئے اختیارات سے تجاوز نہیں کروں گا۔ ٭ کہ میں جماعت کے ممبران میں بھائی چارے کے فروغ کے لئے ہر ممکن کام کروں گا۔ ٭ کہ میں جماعت کے ہر ممبر سے آئین کے مطابق مساوی اور منصفانہ سلوک کروں گا۔ ٭ کہ میں جماعت کے اجتماعی مفادات کو ذاتی مفادات پر فوقیت دوں گا اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاکر جماعت کی سماجی، فلاحی، ثقافتی، ادبی، تعلیمی، فنی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دوں گا۔ ٭ کہ میں اپنی مینیجنگ کمیٹی کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کروں گا اور تمام فیصلوں میں متفقہ لائحہ عمل اپنانے کی کوشش کروں گا۔ ٭ کہ میں جماعت کے ممبران کے انفرادی اور اجتماعی رازوں کی پاسداری کروں گا نیز کسی بھی حوالے سے کوئی ایسا کام نہیں کروں گا،جس سے جماعت کی عزت پر حرف آئے یا جو جماعت کے مفادات کے خلاف ہو۔ ٭ کہ میں اس کے علاوہ ہر وہ کام کرنے کی کوشش کروں گا جو جماعت کے مفاد میں ہو اور جس سے جماعت کے بنیادی اغراض و مقاصد حاصل ہوتے ہوں۔ اللہ رب العزت مجھے اس حلف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) دفعہ نمبر15۔ حلف نامہ برائے عہدیدار و اعزازی ممبرمینیجنگ کمیٹی: شرو ٭ کہ میں اس کے علاوہ ہر وہ کام کرنے کی کوشش کروں گا جو جماعت کے مفاد میں ہو اور جس سے جماعت کے بنیادی اغراض و مقاصد حاصل ہوتے ہوں۔ اللہ رب العزت مجھے اس حلف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
>
دفعہ نمبر15۔ حلف نامہ برائے عہدیدار و اعزازی ممبرمینیجنگ کمیٹی: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ؐہیں۔ میں......................................................... ولد ........................................................ اوڑکھ....................................................... اس بات کا حلفیہ اقرار کرتا ہوں: ٭ کہ مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی، کے..................................... کے عہدے کے لئے مجھے اپناانتخاب برضا و رغبت قبول ہے۔ ٭ کہ میں جماعت کے آئین کو تسلیم کرتا ہوں اور خود بھی اس آئین پر عمل کروں گا اور دوسروں کو بھی اس پر کاربندرکھنے کی کوشش کروں گا۔ خلاف ہو۔ ٭ کہ میں جماعت کے صدر کی قیادت میں ہر وہ کام کرنے کی کوشش کروں گا جو جماعت کے مفاد میں ہو اور جس سے جماعت کے بنیادی اغراض و مقاصد حاصل ہوتے ہوں۔ اللہ رب العزت مجھے اس حلف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
>
دفعہ نمبر16۔ صدر کے اختیارات و فرائض:
دفعہ نمبر16شق نمبر1 جماعت کے صدر کے لئے لازم ہوگا کہ:۔ (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو (b) کم سے کم عمر ۵۳ برس ہو (c) برادری کی ممبر خاتون سے شادی شدہ ہو (d) تعلیم یافتہ ہو (e) اس پر جماعت کے کسی قسم کے بقایا جات نہ ہوں اور وہ کسی بھی حوالے سے جماعت کا قصور وار نہ ہو۔
دفعہ نمبر16شق نمبر2 صدر جنرل باڈی اور مینیجنگ کمیٹی کے اجلاسوں کی صدارت کرے گا اور ان اجلاسوں کی کاروائی آئین کے مطابق چلائے گا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر3 جنرل باڈی یا مینیجنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں کسی بھی نوعیت کی رائے شماری کے موقع پر اگر دونوں فریقین کے ووٹ برابر ہوں تو صدر اپنا کاسٹنگ ووٹ استعمال کرسکتا ہے اور اس طرح کیا جانے والا فیصلہ آئین کے مطابق ہوگا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر4 جماعت کی جنرل باڈی یا مینیجنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران، اگر کوئی ممبر / ممبران، صدر کو حاصل اختیارات کے تحت، کسی حکم کی خلاف ورزی کریں یا کسی ایسے فعل کا ارتکاب کریں، جو غیر آئینی یا غیر اخلاقی حرکات کے زمرے میں آتے ہوں، ایسے ممبر/ ممبران کو صدر، اس اجلاس سے جزوقتی یا کل وقتی باہر جانے کا حکم دے سکتا ہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر5 جماعت میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کی نگرانی صدر کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر16شق نمبر6 جنرل باڈی یا مینیجنگ کمیٹی کے اجلاس میں ایجنڈا سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے امر/ امور پر بحث کی اجازت، صدر کی صوابدید پر منحصر ہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر7 منیجنگ کمیٹی کے کسی بھی عہدیدار یا عام ممبر کے استعفیٰ کی منظوری / نامنظوری کا اختیار صدر کو حاصل رہے گا تاہم وہ اس معاملے میں منیجنگ کمیٹی کی رائے لے سکتا ہے نیز مستعفی ہونے والے عہدیدار/اعزازی ممبر سے درخواست کرسکتا ہے کہ نئے عہدیدار/ اعزازی ممبر کی منیجنگ کمیٹی میں شمولیت تک وہ اپنے فرائض
انجام دیتا رہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر8 صدرکسی بھی خاص،ہنگامی جنرل باڈی/ اسپیشل میٹنگ یا مینیجنگ کمیٹی کی میٹنگ کے لئے خود بھی اجلاس
طلب کرنے کا مجاز ہوگا اور جنرل سیکریٹری کو بھی ہدایت دے سکتا ہے کہ وہ ایسا اجلاس طلب کرے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر9
آئین کی دفعہ نمبر12 میں دی گئی منیجنگ کمیٹی کی افرادی قوت میں کمی و بیشی کا اختیار صدر کو حاصل رہے گا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر10 جنرل باڈی / اسپیشل میٹنگ یامینیجنگ کمیٹی کے کسی بھی اجلاس میں ناگزیر حالات کی بناء پر، صدر ایسا
اجلاس برخواست کرنے کا حکم صادر کرسکتا ہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر11 جماعت کے ایسے ممبر/ ممبران/ خاندان جو کسی بناء پر جماعت سے خارج کردیئے گئے ہوں مگر اب وہ دوبارہ جماعت میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہوں تو صدراُن سے آئین کی دفعہ10شق (15) کے تحت
درخواست وصول کرے گا اور اس پر ضروری کاروائی کرے گا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر12
جماعت کے بینک اکاؤنٹس میں لین دین کے لئے صدر چیک پر دستخط کرسکتا ہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر13 آئین کی دفعہ10 شق 19 کے تحت101 ووٹنگ ممبران کی دستخط شدہ درخواست پر صدر کے لئے لازم ہوگا کہ وہ 30 یوم کے اندر اندر جنرل باڈی کا اجلاس طلب کرے یا ایسا اجلاس طلب کرنے کا حکم جاری کر دے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر14 صدر کے وصال / استعفیٰ کی صورت میں نائب صدر، صدر کے فرائض 3ماہ(90 دن) کے لئے انجام دے گا اوراسی دوران نئے صدر کا انتخاب آئین کی شق 13 کی دفعہ4 اور شق نمبر 13 کی دفعہ 7کے تحتعمل میں لایا جائے گا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر9 آئین کی دفعہ نمبر12 میں دی گئی منیجنگ کمیٹی کی افرادی قوت میں کمی و بیشی کا اختیار صدر کو حاصل رہے گا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر10 جنرل باڈی / اسپیشل میٹنگ یامینیجنگ کمیٹی کے کسی بھی اجلاس میں ناگزیر حالات کی بناء پر، صدر ایسا اجلاس برخواست کرنے کا حکم صادر کرسکتا ہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر11 جماعت کے ایسے ممبر/ ممبران/ خاندان جو کسی بناء پر جماعت سے خارج کردیئے گئے ہوں مگر اب وہ دوبارہ جماعت میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہوں تو صدراُن سے آئین کی دفعہ10شق (15) کے تحت درخواست وصول کرے گا اور اس پر ضروری کاروائی کرے گا۔
دفعہ نمبر16شق نمبر12 جماعت کے بینک اکاؤنٹس میں لین دین کے لئے صدر چیک پر دستخط کرسکتا ہے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر13 آئین کی دفعہ10 شق 19 کے تحت101 ووٹنگ ممبران کی دستخط شدہ درخواست پر صدر کے لئے لازم ہوگا کہ وہ 30 یوم کے اندر اندر جنرل باڈی کا اجلاس طلب کرے یا ایسا اجلاس طلب کرنے کا حکم جاری کر دے۔
دفعہ نمبر16شق نمبر14 صدر کے وصال / استعفیٰ کی صورت میں نائب صدر، صدر کے فرائض 3ماہ(90 دن) کے لئے انجام دے گا اوراسی دوران نئے صدر کا انتخاب آئین کی شق 13 کی دفعہ4 اور شق نمبر 13 کی دفعہ 7کے تحتعمل میں لایا جائے گا۔
>
دفعہ نمبر17۔ نائب صدر کے اختیارات و فرائض:
دفعہ نمبر17شق نمبر1 جماعت کے نائب صدر کے لئے لازم ہوگا کہ: (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو(b) کم سے کم عمر ۰۳ برس ہو (c) برادری کی خاتون ممبرسے شادی شدہ ہو (d) تعلیم یافتہ ہو (e) اس پر جماعت کے کسی قسم کے واجبات نہ ہوں اور وہ کسی بھی حوالے سے جماعت کا قصور وار نہ ہو۔
دفعہ نمبر17شق نمبر2 صدر کی غیر موجودگی کی صورت میں، نائب صدر، جنرل سیکریٹری کی مشاورت سے، صدر کے فرائض انجام دے گااور وہ اُن تمام اختیارات کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا جو اِس آئین کے تحت صدر کو تفویض کئے گئے ہیں۔
دفعہ نمبر17شق نمبر3 عام حالات میں وہ صدر کے کاموں میں معاونت کرے گا۔
>
دفعہ نمبر18۔ جنرل سیکریٹری کے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر18شق نمبر1 جماعت کے جنرل سیکریٹری کے لئے لازم ہوگا کہ:۔ (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو(b)کم سے کم عمر ۵۲ برس ہو(c) اگرشادی شدہ ہو، تو برادری کی ممبر خاتون سے ہو(d) تعلیم یافتہ ہو (e) اس پر جماعت کے کسی قسم کے واجبات نہ ہوں اور وہ کسی بھی حوالے سے جماعت کا قصور وار نہ ہو۔
دفعہ نمبر18شق نمبر2
جنرل سیکریٹری، جماعت اور اس کے ذیلی شعبوں کے منتظم افسر کے طورپر کام کرے گا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر3 جنرل سیکریٹری،جماعت/ مینیجنگ کمیٹی و ذیلی اداروں کی طرف سے ہر طرح کی خط و مراسلت کرسکے
گا اور بیانات و تصدیق نامہ جاری کرسکے گا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر4 مختلف امور کی انجام دہی کے لئے مناسب افراد کو اجرتاً و اعزازاًبھرتی کرنے اورخارج کرنے کا اختیار
نیزان کی تنخواہوں اور ذمہ داریوں کا تعین کرناجنرل سیکریٹری کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر18شق نمبر5
جماعت کا تمام تر تنخواہ دا ر اور اعزازی عملہجنرل سیکریٹری کے ماتحت ہوگا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر6 جنرل سیکریٹری جماعت کے تمام ریکارڈ/دستاویزات کو مرتب کرے گا اور ان کی حفاظت کرے گا۔ منیجنگ کمیٹی/جنرل باڈی/اسپیشل باڈی/ریکوزٹ باڈی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹسMINUTES کا تحریری ریکارڈ مرتب کرے گا اور ان کی منظوری لے گا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر7 جماعت کی جانب سے ہونے والی ہر طرح کی خط و کتابت، متعلقہ دستاویزات، واؤچرز اور رسیدوں پر دستخط کرے گا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر8 جماعت کی تعمیر شدہ / غیر تعمیر شدہ جائیداد کے ٹیکس کی ادائیگی اور دیگر قانونی امور کی انجام دہی جنرل سیکریٹری کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر18شق نمبر9 صدر کی اجازت سے جماعت یا مینیجنگ کمیٹی کا عام/خاص/ہنگامی اجلاس طلب کرنے کامجاز ہوگا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر10 جنرل سیکریٹری کو اختیار حاصل رہے گا کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں منیجنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر، مبلغ پچاس ہزار روپے (50,000/-)تک خرچ کرسکتا ہے مگر ایسے خرچ کی توثیق منیجنگ کمیٹی کے ہونے والے اگلے اجلاس میں کرانے کا پابند ہوگا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر11 جنرل سیکریٹری، مینیجنگ کمیٹی کی رضا مندی سے، جماعت کی فلاح و بہبود اور ترقی و توسیع کے لئے جماعت کے ممبران سے فنڈز، عطیات، چندہ، تحائف اورجماعت کے غریب وپسماندہ ممبر/خاندان کے لئے زکوٰۃ، پوئر فنڈ، فطر ہ اور دیگر عطیات وصول کرے گا اس کی رسید/سر ٹیفکیٹ جاری کرے گا اور اس
مدمیں تمام آمدنی و اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھے گا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر12 منیجنگ کمیٹی کی کارکردگی کی رپورٹ اور جماعت کے اندرونی و بیرونی حسابات اور کھاتوں کو کسی مستند آڈیٹر (Auditor)سے آڈٹ (Audit)کروائے گا اور آڈٹ رپورٹ حاصل کرے گا۔ اُن کی اشاعت اور جماعت سے منظوریجنرل سیکریٹری کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر18شق نمبر13 جماعت کے کھاتوں / حسابات میں سے زیادہ سے زیادہ مبلغ بیس ہزار روپے (20,000/-)کی رقم
بطور اخراجات جاریہ(Petty Cash) اپنے پاس رکھنے کا مجاز ہوگا۔
دفعہ نمبر18شق نمبر14
جنرل سیکریٹری، جماعت کے بینک اکاؤنٹس میں لین دین کے لئے چیک پر دستخط کرسکتا ہے۔
>
دفعہ نمبر19۔ جوائنٹ سیکریٹری کے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر19شق نمبر1 جماعت کے جوائنٹ سیکریٹری کے لئے لازم ہوگا کہ: (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو (b)کم سے کم عمر۵۲ برس ہو (c) اگر شادی شدہ ہو تو برادری کی ممبر خاتون سے ہو(d) تعلیم یافتہ ہو e) (اس پر جماعت کے کسی قسم کے بقایا جات نہ ہوں اور نہ و ہ کسی بھی حوالے سے جماعت کا قصور وار ہو۔
دفعہ نمبر19شق نمبر2 جنرل سیکریٹری کی غیر موجودگی / موت/ استعفیٰ کی صورت میں جوائنٹ سیکریٹری،جنرل سیکریٹری کے فرائض انجام دے گا۔اس موقع پر وہ، اُن تمام اختیارات کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا جو اس آئین کے تحت جنرل سیکریٹری کو حاصل ہیں۔
دفعہ نمبر19شق نمبر3 عام حالات میں وہ جنرل سیکریٹری کے کاموں میں معاونت کرے گا۔
>
دفعہ نمبر20۔ خزانچی کے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر20شق نمبر1 جماعت کے خزانچی کے لئے لازم ہوگا کہ: (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو (b)کم سے کم عمر۰۳ برس ہو (c) اگر شادی شدہ ہو، تو برادری کی ممبر خاتون سے ہو(d) تعلیم یافتہ ہو اوراکاؤنٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھتا ہو e) (اس پر جماعت کے کسی قسم کے بقایا جات نہ ہوں اور نہ و ہ کسی بھی حوالے سے جماعت کا قصور وار ہو۔
دفعہ نمبر20شق نمبر2 خزانچی، جنرل سیکریٹری کو موصول ہونے والے چندہ، فنڈ، عطیات، تحائف وغیرہ کو اپنی حفاظت میں رکھے گا، ان کاریکارڈ مرتب کرے گا، بوقت ضرورت انہیں بینک میں جمع کرائے گا اور صدر یا جنرل سیکریٹری کی ہدایت پر بینک سے رقم نکلوائے گا۔
دفعہ نمبر20شق نمبر3
دفعہ نمبر20شق نمبر3 بینک سے رقم نکالنے کے لئے چیک پر خزانچی کے دستخط لازمی ہوں گے۔
دفعہ نمبر20شق نمبر4 خزانچی جماعت کے حسابات، تمام فنڈز اور کھاتوں کو مرتب کرے گا اور انہیں جنرل سیکریٹری کے حوالے کرنے کاپابند ہوگا۔
>
دفعہ نمبر21۔ پوئر فنڈ سیکریٹری کے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر21شق نمبر1 جماعت کے پوئر فنڈ سیکریٹری کے لئے لازم ہوگا کہ:۔ (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو(b)کم سے کم عمر ۰۳ برس ہو (c) تعلیم یافتہ ہو (d) اگر شادی شد ہ ہو تو برادری کی ممبر خاتون سے ہو (e) اس پر جماعت کے کسی قسم کے واجبات نہ ہوں اور نہ ہی وہ کسی بھی حوالے سے جماعت کا قصور وار ہو۔
دفعہ نمبر21شق نمبر2 پوئر فنڈ سیکریٹری، پوئر فنڈ، زکوٰۃ فنڈ کی لین ودین کے تمام حسابات تحریری طور پر مرتب کرے گا اور ان فنڈزکی تقسیم کے انتظامات منصفانہ طریقے کے تحت کرے گا نیز تمام حسابات و رقوم خزانچی کے حوالے کرنے کا پابند ہوگا۔
دفعہ نمبر21شق نمبر3 پوئر فنڈ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم اور دیگر تحائف وصول کرے گا اور رسید جاری کرے گا۔
دفعہ نمبر21شق نمبر4
پوئر فنڈ کا ایک الگ اکاؤنٹ/ کھاتہ بینک میں رکھا جائے گا، جس کی دیکھ بھال پوئر فنڈ سیکریٹری کرے گا۔
دفعہ نمبر21شق نمبر5 بینک سے پوئر فنڈکی مد میں رقم نکلوانے کے لئے دو افراد کے دستخط لازمی ہوں گے جن میں سے ایک پوئر
فنڈ سیکریٹری ہوگا جبکہ دوسرا فرد صدر/ خزانچی ہوگا۔
دفعہ نمبر21شق نمبر6 منیجنگ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق جماعت کے مستحقین کی امداد کے انتظامات کی ذمہ داری پوئر فنڈ
سیکریٹری پرہوگی۔
دفعہ نمبر21شق نمبر7 پوئر فنڈ سیکریٹری زیادہ سے زیادہ مبلغ پچیس ہزار روپے (25,000/-)روپے کی رقم بطور اخراجات
جاریہ (Petty Cash) اپنے پاس رکھے گا۔
دفعہ نمبر21شق نمبر8 پوئر فنڈ سیکرٹری کو اختیار حاصل رہے گا کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مینیجنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیرپچیس ہزار روپے (25,000/-) تک خرچ کرسکتا ہے اور ایسے خرچ کی توثیق مینیجنگ کمیٹی کے ہونے والے اگلے اجلاس میں کرانے کا پابند ہوگا۔
>
دفعہ نمبر22۔ چیئرمین برائے تعلیمی امورکے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر22شق نمبر1 جماعت کے چیئرمین برائے تعلیمی امور کے لئے لازم ہوگا کہ: (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو (b) کم سے کم عمر۰۳ برس ہو (c)تعلیم یافتہ ہو (d) اگر شادی شدہ ہو تو، صرف برادری کی ممبر خاتون سے ہو (e) اس پر جماعت کے کسی قسم کے واجبات نہ ہوں اور نہ ہی وہ کسی بھی
حوالے سے جماعت کا قصور وار ہو۔
دفعہ نمبر22شق نمبر2 چیئر مین،جماعت کے ذیلی ادارہ "کچھی کھتری ایجوکیشن سوسائٹی" میں بحیثیت چیئر مین خدمات انجام
دیگا اور برادری میں تعلیم کے فروغ اور اس کی ترقی کے لئے کام کرے گا۔
دفعہ نمبر22شق نمبر3 چیئر مین، تعلیم کے سلسلے میں موصول ہونے والا زکواۃفنڈ و دیگر عطیات کی لین دین کے تما م حسابات تحریری طور پرمرتب کرے گا۔اور ان فنڈز کی تقسیم،جس میں طلباء کی اسکول، کالج، یونیورسٹی یا کسی اورقسم کی تعلیمی و ٹیکنیکل ادارے کی ماہانہ، سالانہ فیس کا بندوبست کرے گا اوراسکول یونیفارم،تعلیمی نصاب اور
دیگرضروریات فراہم کرے گا۔
دفعہ نمبر22شق نمبر4 دستیاب تعلیمی فنڈز کو مدِنظر رکھ کر، طلباء و طالبات کی فیسوں کی ادائیگی میں کمی و بیشی کے لئے صدر/جنرل
سیکریٹری کی ہدایات کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
دفعہ نمبر22شق نمبر5 ایجوکیشن فنڈ کا ایک الگ اکاؤنٹ/کھاتہ بنک میں رکھا جائے گا جس کی دیکھ بھال چیئر مین برائے تعلیمی
امور کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر22شق نمبر6 بینک سے ایجوکیشن فنڈ کی مد میں رقم نکلوانے کے لئے دو افراد کے دستخط لازمی ہوں گے جن میں
ایک چیئر مین برائے تعلیمی امور ہوگا اور دوسرا صدر ہوگا۔
دفعہ نمبر22شق نمبر7
چیئر مین برائے تعلیمی امور ہرتین(3) ماہ بعد منیجنگ کمیٹی کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرے گا۔
دفعہ نمبر22شق نمبر8 چیئرمین برائے تعلیمی امور زیادہ سے زیادہ مبلغ پچاس ہزار روپے (50,000/-) روپے کی رقم بطور
اخراجاتِ جاریہ (Petty Cash) اپنے پاس رکھے گا۔
دفعہ نمبر22شق نمبر9 چیئرمین برائے تعلیمی امور کو اختیار حاصل رہے گا کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مینیجنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیرپچیس ہزار روپے (25,000/-) تک خرچ کرسکتا ہے اور ایسے خرچ کی توثیق مینیجنگ
کمیٹی کے ہونے والے اگلے اجلاس میں کرانے کا پابند ہوگا۔
>
دفعہ نمبر23۔ چیئرمین برائے رسوم و رواج کے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر23شق نمبر1 جماعت کے چیئرمین برائے رسوم و رواج کے لئے لازم ہوگا کہ: (a) وہ ووٹنگ ممبر ہو (b) کم سے کم عمر ۵۲ برس ہو (c) تعلیم یافتہ ہو (d) اگر شادی شدہ ہو تو، برادری کی ممبر خاتون سے ہو (e) اس پر جماعت کے کسی قسم کے واجبات نہ ہوں اور نہ ہی وہ کسی بھی حوالے
سے جماعت کا قصور وار ہو۔
دفعہ نمبر23شق نمبر2 چیئر مین، ایک کمیٹی تشکیل دے گا جو کہ" رسوم ورواج کمیٹی" کہلائے گی۔ کمیٹی کے ممبران کا تعلق مینیجنگ کمیٹی سے ہو گا۔ کمیٹی سے ہو گا۔
دفعہ نمبر23شق نمبر3
چیئر مین و کمیٹی، خوشی و غمی کی مناسبت سے ہالز کی بکنگ، منتقلی یا کینسل کرنے کے مجاز ہوں گے۔
دفعہ نمبر23شق نمبر4
چیئر مین و کمیٹی ، جماعت خانہ / کمیونیٹی سینٹر کے ہالز کی بکنگ کا جامع رکارڈ رکھیں گے۔
دفعہ نمبر23شق نمبر5 چیئر مین و کمیٹی، جماعت خانے /کمیونیٹی سینٹر کی بکنگ کے لئے آنے والے ممبران کو ہالز کی دستیابی کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔
دفعہ نمبر23شق نمبر6 فیملی کارڈ کی سالانہ تجدید کرنا چیئر مین و کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر23شق نمبر7 جماعت کے جملہ ممبران سے متعلق منگنی، شادی بیاہ، پیدائش و اموات، طلاق و خلع کا جامع تحریری وکمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھنا چیئر مین و کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی۔
دفعہ نمبر23شق نمبر8 روزانہ کی بنیاد پر موصول شدہ رقوم کوجنرل سیکریٹری یا خزانچی کو دینے کا پابند ہوگا اور اُس کی رسید حاصل کرے گا۔
>
دفعہ نمبر24۔ بحیثیت مجموعی مینیجنگ کمیٹی کے فرائض و اختیارات:
دفعہ نمبر24شق نمبر1 بحیثیت مجموعی منیجنگ کمیٹی کے عہدوں کا انتخاب صدر اپنی صوابدید پر کرے گا اور اِس ضمن میں صدر چاہے
تو اپنی منیجنگ کمیٹی سے مشورہ لے سکتا ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر2 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی کے تمام اراکین کے لئے لازم ہوگا کہ وہ، ووٹنگ ممبر ہوں، تعلیم یافتہ ہوں اور شادی شدہ ہوں تو برادری کی خاتون ممبر سے ہوں اور اِن پرجماعت کے کسی بھی قسم کے واجبات نہ
ہوں اور نہ ہی وہ کسی بھی حوالے سے جماعت کے قصوروار ہوں۔
دفعہ نمبر24شق نمبر3 جماعت کے آئین کا اطلاق مینیجنگ کمیٹی پر بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح ایک عام ممبر پر ہوتا ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر4 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی کسی بھی امر/ امور کے لئے ذیلی ادارہ،ادارے، کمیٹی و کمیٹیاں تشکیل دینے کی مجاز ہوگی تاہم وہ ان تمام ذیلی ادارہ،ادارے، کمیٹی و کمیٹیوں کے قول وفعل اور فیصلوں کے لئے مکمل طورپر جواب دہ ہوگی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر5 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی جنرل باڈی/ اسپیشل میٹنگ کے لئے صدر/جنرل سیکریٹری کی مشاورت سے ایجنڈا تیار کرے گی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر6 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی کسی بھی امر/ امور کے لئے جماعت کے مخصوص ممبر / ممبران پر مشتمل ایک مختصر میٹنگ بلاسکتی ہے۔ میٹنگ بلاسکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر7 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی کی میٹنگ کا کورم 50 فیصدارکان پر مشتمل ہوگا۔
دفعہ نمبر24شق نمبر8 منیجنگ کمیٹی بحیثیت مجموعی، جماعت کے سالانہ ریکارڈ، سالانہ اکاؤنٹس، ہر طرح کی خط و مراسلت، کراکری و سامان، ڈیکوریشن اور جماعت کے جملہ منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات کا حساب رکھے گی اور اس کے لئے جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر9 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی جماعت کے کسی بھی ممبر/ ممبران/ خاندان کو اپنی مشاورت کے لئے طلب کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر10 کسی بھی امر/امور کے لئے مینیجنگ کمیٹی، صدر کو جنرل باڈی/خصوصی اجلاس بلانے کا مشورہ دے سکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر11 بحیثیت مجموعی، منیجنگ کمیٹی کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جماعت کے اغراض و مقاصد اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین میں ترمیم/ترامیم/اضافہ/معطلی کے لئے اپنا سفارشی مسودہ تیار کرسکتی ہے اور اس کے متعلق دیئے گئے مقررہ وقت تک جماعت سے تحریری طور پر رائے/ مشاورت / تجاویز طلب کرسکتی ہے اورمسودہ کو آئین کی دفعہ 11کی شق نمبر 7کے تحت ایسی ترمیم/ ترامیم/اضافہ/معطلی کی منظوری کے لیئے جنرل باڈی اجلاس میں پیش کرے گی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر12 منیجنگ کمیٹی کا کوئی بھی عہدیدار / عام ممبر ماسوائے صدر، اپنا استعفیٰ صدر کو پیش کرے گا۔
دفعہ نمبر24شق نمبر12 منیجنگ کمیٹی کا کوئی بھی عہدیدار / عام ممبر ماسوائے صدر، اپنا استعفیٰ صدر کو پیش کرے گا۔
دفعہ نمبر24شق نمبر13 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ شادی بیاہ اور خوشی و غمی سے متعلق رسوم و رواج میں ترامیم کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر14 بحیثیت مجموعی، مینیجنگ کمیٹی جنرل باڈی/ خصوصی میٹنگ یا منیجنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی پابند ہوگی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر15 بحیثیت مجموعی، مینیجنگکمیٹی جماعت کے ممبران سے لاگے، پوور فنڈ، زکواۃ، تعمیراتی فنڈ، قبرستان فنڈ، فطرہ، عطیات اور تحائف وغیرہ وصول کرے گی نیز جماعت کے جملہ منقولہ وغیر منقولہ اثاثہ جات کی دیکھ بھال کرے گی، ان کاکرایہ وصول کرے گی، ایسے اثاثہ جات کے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات کا
تصفیہ کرائے گی۔ تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں اگر معاملہ مقدمہ بازی تک پہنچے تو آئین کی دفعہ 11شق 5 کے تحت عمل کرے گی۔ بوقتِ ضرورت جماعت کے لئے زمین کا حصول اور اُس پر تعمیرات کر سکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر16 جماعت کے کسی بھی ممبر/ ممبران/ خاندان پر آئین کی خلاف ورزی یا کسی بھی معاملے میں اگر کوئی بندش ہواورعارضی طورپر جماعت سے خارج کردیئے گئے ہوں تو اس صورت میں منیجنگ کمیٹی، متاثرہ ممبر/ ممبران/ خاندان کی طرف سے آئی ہوئی درخواستوں پر غور کرکے اور ضروری ہوا تو ان پر جرمانہ
عائدکرکے ان پر لگائی گئی بندش/ عارضی اخراج ختم کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر17
عائدکرکے ان پر لگائی گئی بندش/ عارضی اخراج ختم کرسکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر17 جماعت میں باہر سے آئے ہوئے ممبر/ ممبران/ خاندان سے عارضی ممبر شب کے حصول کے لئے درخواست وصول کرے گی اور اگر ضروری ہوا تو آئین کی دفعہ 10 کی شق 3 (الف)کے تحت عارضی
ممبر شپ جاری کرے گی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر18 جنرل باڈی/ خصوصی میٹنگ میں پیش ہونے والے ایجنڈا کے تمام نکات پرمینیجنگ کمیٹی پہلے ہی غور کرے
گی تاکہ ایسے نکات کو پیش کرنے میں آسانی رہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر19 اگر کسی ممبر/ ممبران/ خاندان کے حقوق معطل کرنے کی ضرورت ہو تومینیجنگ کمیٹی اپنی صوابدید پر حالات
اور واقعات کی مناسبت سے اس ممبر/ ممبران/ خاندان کے حقوق معطل کرنے کی مجاز ہوگی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر20 مینیجنگ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جماعت کے کسی ممبر/ ممبران/ خاندان کی کسی ایسی بات/ حرکت / فعل پرجو جماعت کے آئین کے منافی ہو اور جس سے جماعت کی عزت اور وقار پر حرف آئے۔ ایسے ممبر/ممبران/خاندان کے حقوق پر اپنی صوابدید اور حالات و واقعات کی مناسبت سے
بندش لگاسکتی ہے۔
دفعہ نمبر24شق نمبر21
منیجنگ کمیٹی، جماعت کے کسی ممبر/ ممبران/ خاندان کو طلب کرتے وقت ایسی طلبی کی وجہ پیش کرے گی۔
دفعہ نمبر24شق نمبر22 مینیجنگ کمیٹی کو اختیار حاصل ہوگاکہ وہ فلاح و بہبود، رسوم و رواج اور روز مرہ کے امور کی انجام دہی
دفعہ نمبر24شق نمبر22 مینیجنگ کمیٹی کو اختیار حاصل ہوگاکہ وہ فلاح و بہبود، رسوم و رواج اور روز مرہ کے امور کی انجام دہی کے لئے ضمنی قواعد و ضوابط/قوانین بنا سکتی ہے۔
>
دفعہ نمبر25۔ نوٹس برائے اجلاس:
دفعہ نمبر25شق نمبر1 جنرل باڈی/ خصوصی میٹنگ کے لئے نوٹس کا اجراء کم از کم 72 گھنٹے پہلے کیا جائے گا جس کی مناسب تشہیر
ضروری ہے۔
دفعہ نمبر25شق نمبر2
جنرل باڈی/ خصوصی میٹنگ کے لئے صرف صدر یا جنرل سیکریٹری جماعت سے اپیل کرسکتے ہیں۔
دفعہ نمبر25شق نمبر3 جنرل باڈی/ خصوصی میٹنگ کے لئے کورم150 ووٹنگ ممبران پر مشتمل ہوگا۔ ایسی میٹنگ میں شرکت کے
لئے جماعت میں رائج الوقت موئثر شناختی کارڈدکھانا ضروری ہوگا۔
>
دفعہ نمبر26۔ جنرل باڈی میٹنگ کی کاروائی:
دفعہ نمبر26شق نمبر1
جنرل باڈی اجلاس میں ایجنڈا کے مطابق کاروائی اور فیصلے ہوں گے۔
دفعہ نمبر26شق نمبر2 جنرل باڈی میٹنگ کے منٹس، اگلی جنرل باڈی میٹنگ میں پڑھ کر سنائے جائیں گے اور جماعت کی منظوری سے صدر ان پر دستخط ثبت کرے گا۔ ان منٹس کی بحالی کے بعد کوئی بھی شکایت/ اعتراض بعد از منظوری سے صدر ان پر دستخط ثبت کرے گا۔ ان منٹس کی بحالی کے بعد کوئی بھی شکایت/ اعتراض بعد از وقت سمجھاجائے گا نیز منظور شدہ/ توثیق شدہ منٹس پر بحث نہیں ہوسکے گی۔
دفعہ نمبر26شق نمبر3 جنرل باڈی میٹنگ کی کاروائی کے منٹس کی خواندگی کے دوران اگر کچھ ایسے الفاظ/ جملے بھی تحریر ہوچکے ہوں جن کے بارے میں جنرل باڈی محسوس کرے کہ ایسے الفاظ/ جملوں کو منٹس سے حذف کردیا جائے تو جنرل باڈی کی منظوری سے ایسے الفاظ/ جملے منٹس سے حذف کئے جاسکیں گے۔
دفعہ نمبر26شق نمبر4 جنرل باڈی میٹنگ میں صدر کومندرجہ ذیل امور پر رولنگ (Ruling) دینے کا اختیار ہوگا:۔ (a)کوئی بھی ایسا مسئلہ جس کا تفصیلی احاطہ اس آئین میں نہ کیاگیا ہو۔ (b)آئین کے کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی یا کسی بھی ممبر/ ممبران کے غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر پارلیمانی برتاؤ پر صدر رولنگ دے سکتا ہے۔ (c)جنرل باڈی میٹنگ میں آئین کے خلاف ہونے والی کسی بھی کاروائی کو صدر اپنی رولنگ سے روک سکے گا۔
>
دفعہ نمبر27۔ کورم:
دفعہ نمبر27شق نمبر1 منیجنگ کمیٹی کی میٹنگ کے لئے کورم 50فیصد ممبران پر مشتمل ہوگا۔
دفعہ نمبر27شق نمبر2 جنرل باڈی کی میٹنگ کا کورم150 ووٹنگ ممبران پر مشتمل ہوگا۔
دفعہ نمبر27شق نمبر3 جنرل باڈی میٹنگ میں مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد تک، اجلاس کا کورم پورا نہ ہوسکے تو وہ اجلاس ملتوی سمجھاجائے گا۔ اس طرح ملتوی شدہ اجلاس کا دوسری دفعہ انعقاد پہلے اجلاس کے فوراً بعد ہی کیا جاسکتا ہے مگر اس میں کورم پورا ہونے کی پابندی ضروری نہ رہے گی لیکن ایسے اجلاس میں اصل ایجنڈے کے علاوہ
کوئی دوسرا کام نہیں کیا جاسکے گا۔
دفعہ نمبر27شق نمبر4 جنرل باڈی اجلاس میں غیر معمولی طوالت کی صورت میں صدر کو اختیار حاصل رہے گا کہ وہ اسی اجلاس کو کسی اور دن تک کے لئے موخر کردے مگر اصل ایجنڈا وہی رہے گا۔
>
دفعہ نمبر28۔ ریکوزیشن اجلاس:
دفعہ نمبر28شق نمبر1
منیجنگ کمیٹی کے ریکوزیشن اجلاس کے لئے منیجنگ کمیٹی کے 40فیصد ارکان کے دستخطوں سے تحریری درخواست صدر کو دینا ہوگی۔ ایسی درخواست کے موصول ہونے کے 7دن کے اندر اجلاس طلب کیا جانا لازمی ہے مگر اس اجلاس کے لئے درخواست دہندہ کے 80 فیصد ارکان کی حاضری کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپر منیجنگ کمیٹی کے50 فیصد ارکان کا کورم ہوگا۔
دفعہ نمبر28شق نمبر2
ریکوزیشن اجلاس میں متعلقہ امر/ امور کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں ہوسکے گا۔
دفعہ نمبر28شق نمبر3 ریکوزیشن اجلاس میں مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد تک اجلاس کا کورم پورا نہ ہوا تو ایسا اجلاس منسوخ سمجھا جائے گا اور اجلاس کی منسوخی کے بعد اسی خاص مقصد کے لئے چھ ماہ تک دوسرا ریکوزیشن اجلاس طلب نہیں کیاجاسکے گا تاہم اسی ریکوزیشن کے دوسرے اجلاس پر کورم کا اطلاق نہیں ہوگا۔
دفعہ نمبر28شق نمبر4
ریکوزیشن اجلاس میں منٹس کی خواندگی اور توثیق کا عمل نہیں ہوگا۔
دفعہ نمبر28شق نمبر5 ریکوزیشن اجلاس میں جو امر/ امور اکثریت سے نامنظور قرار پائیں گے تو ان امر/ امور کے متعلق چھ ماہ تک دوسرا ریکوزیشن اجلاس نہیں بلایا جاسکے گا۔
دفعہ نمبر28شق نمبر6 اگرکسی ممبر/ممبران/خاندان کو، جنرل باڈی کا ریکوزیشن اجلاس طلب کرنا مقصود ہو تو اِس امر کے لئے آئین کی دفعہ 10 شق نمبر 19 کے بموجب عمل کیا جائے گا۔