تاریخ - مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی۔

تاریخ کے موضوع  پر کچھ لکھنے سے قبل یہ آگہی ضروری ہےکہ تاریخ ہے کیا ؟۔ کیا یہ محض ماضی کے گزرے واقعات کو قلمبند کرنے کی ایک ریت ہے۔ کیا تاریخ کے بارےمیں مشاہیر کا یہ نکتہ نظر درست کہ یہ کسی قوم ، قبیلے یا کسی خطے کے قدیم باسیوں کی تہذیب ، تمدن ، حالات واقعات ، لغرشوں اور کارناموں کا آئینہ ہے جس میں آج کا فرد اپنے حال سمیت مستقبل کی راہوں کا تعین کر سکے

مقدمہ ابن خلدون کے مطابق، تاریخ دراصل انسانیت کی یادداشت ، اس کا حافظہ ہے۔ یہ ماضی میں گزری بنی نوع انسان کی تہذیبوں کے احوال اور ان کے تجربات کا ریکارڈ محفوظ رکھ کر ہروقت انسان کے سامنے پیش کرتا رہتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے حال اور مستقبل کا تعین، ان گزرے لوگوں کے تجربات کی روشنی میں کرسکے اور اس طرح وہ اپنے مستقبل کو غلطیوں سے محفوظ رکھ سکے

قبیلوں اور قوموں کی پہچان اپنی ثقافت، تہذیب اور زبان سے ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنی ان اقدار کو فراموش کر دیتی ہیں وہ جلد مٹ جاتی ہیں۔ کسی مفکر کا کہنا ہے کہ آپ اس تما م تر تنا ظر کی روشنی میں اب ہم اپنے قبیلے یا عرف عام میں قوم کی تاریخ کا جائزہ لیں گے کسی قبیلے یا قوم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تو اسکی ثقافت، تہذیب اور .زبان جوختم کردیں وہ خودبخود ختم ہو جائے گی


لیکن آگے بڑھنے سے قبل ہم قبیلوں کی اہمیت وضرورت کو قرآن حکیم کی روشنی میں دیکھیں گے۔قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے،کہ

"وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا "۔

ترجمہ: اور ہم نے تمہیں ذاتوں اور قبیلوں (برادریوں) میں بنایا تاکہ تم آپس میں اپنی پہچان رکھ سکو

اب ہم اس مختصر جائزے میں معلوم تاریخ کے اوراق میں اپنےقبیلے یا برادری کی تاریخ پر روشنی ڈالیں گے
گویا قبیلے، ذاتیں اور برادریوں کا وجود اور ان کی پہچان منشاءِ الٰہی کےعین مطابق ہے۔

اب ہم اس مختصر جائزے میں معلوم تاریخ کے اوراق میں اپنےقبیلے یا برادری کی تاریخ پر روشنی ڈالیں گے۔

دراصل جنگل کی زندگی سے آج کے متمدن معاشرے تک پہنچ جانے کے باوجود بھی انسان کی یہ سرشت رہی ہے کہ قبیلے یا ملک کی صورت میں طاقت پانے پر وہ طاقت کے اظہار اور اپنی جغرافیائی حدود بڑھانے کی خاطر دور قریب کے کمزور قبیلے یا ملک پر چڑھ دوڑتا ہے۔  

اسی انسانی جبلت کے تحت وسط ایشیا میں بسنے والے آرین ایران وافغانستان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے اور اس طرح آریہ (آرین) پنجاب سے دریائے سندھ کے
ساتھ سفر کرتے ہوئے پورے سندھ، گجرات اور اس سے ملحقہ ایک وسیع علاقے تک قابض ہو گئے۔

آریہ جب ان علاقوں میں آباد ہونےلگے تو ان کا طرز زندگی بہت سادہ تھا۔ یہ مختلف قبیلوں یا خاندانوں میں منقسم تھے۔ بعد میں ان خاندانوں اور قبیلوں نے اپنے اپنے بڑے گروہوں کے وفاق قائم کر کے منظم برادری سسٹم کی بنیاد رکھی۔ اس وقت تک گلہ بانی (مویشی پالنا) اور زراعت ہی ان کا پیشہ تھا۔

بعد میں آبادی میں اضافے اور علاقوں میں توسیع کا سلسلہ اُنہیں کھیتوں سے میدانِ جنگ کی طرف لے گیا۔ یہ جنگجویا نہ فطرت انہیں اپنے آبائی علاقوں سے ورثے میں ملی تھی۔ طویل جنگوں نے جب بدامنی پیدا کی تو انارکی بڑھنے لگی، اِس بگڑتی صورتحال سے مجبور ہو کر انہوں نے ایک منظم معاشرے کی ضرورت محسوس کی۔

آریوں نے سماجی اصلاحات کے ایک جامع پروگرام کے خدوخال مرتب کرنے کی ذمہ داری اس وقت کے ایک زیرک انسان "منومہاراج" کو سونپی، جو معاشی، سماجی اور دفاعی امور کا ماہر تھا۔
منو مہاراج نے آریائی سوسائٹی کو چار طبقاتی نظام کی بنیاد پر منظم کیا۔

(الف) برہمن: ان کا کام شماج میں مذہبی روایات کو پروان چڑھانااور ان کی حفاظت کرناتھا۔اس وجہ سے یہ باعثِ عزت واحترام مانے جاتے تھے۔

(ب) کھتری: ان کے ذمے حکمرانی، ملکی سرحدوں کی حفاظت اور ںظم ونسق برقرار رکھنا تھا۔ نیز ملک کی زرعی معیشت اور ملکی درآمدات وبرآمدات پر ان کی اجارہ داری کو تسلیم کیا گیا، لہٰذاعزت وتعظیم میں برہمن کے ہم پلہ تصور کئے جاتے تھے۔

(ج) ویش: انہیں ملک کے اندر محدود زراعت غلہ بانی اور ضروریات زندگی کی چھوٹی موٹی اشیاء کی خرید وفروخت کی ذمہ داری دی گئی۔

(د) شودر: یہ مفتوحہ علاقوں کے لوگ تھے۔ ان کا آریہ نسل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کے ذمہ چھوٹے موٹے کام سپرد کئے گئے تھے۔صفائی ستھرائی کے لئے اس مفتوحہ قوم میں پہلے سے موجود ایک مخصوص طبقہ تھا۔ اِس طبقے کو دلت کے نام سے پکارا جاتاتھا۔  

کھتری عملی طور پر شمشیر زن تھے ۔ لیکن آبادی میں اضافے پر وہ جب سندھ سے نکل کر ہندوستان کے دیگر ساحلی علاقوں میں آباد ہوئے، تو انہوں نے اپنی توجہ تجارت و صنعت کی طرف مبذول کی۔ ہندوستان کے یہ علاقے درآمدات وبرآمدات کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھے۔

برصغیر پاک وہند میں روئی کی وسیع کاشت نے یہاں کپڑے بنانے کی صنعت کو استحکام بخشا۔ بلا امتیاز مذہب سندھ، گجرات، بمبئی اور ریاست کچَھ سے تعلق رکھنے والے کھتریوں نے کپڑا بنانے، کپڑوں کی رنگائی وچھپائی اور چندری و اجرک سازی کی صنعت سے اپنا رشتہ جوڑے رکھا۔ میدانِ جنگ کے داؤں پیج کے طویل تجربے انہیں تجارت میں کام آئے۔ اس طرح کاروباری سوجھ بوجھ، معاملہ فہمی اور حساب دانی نے انہیں اس صنعت کا رہبر بنادیا۔ کپڑے اور دیگر پیشوں سے متعلق کھتری کہلانے والے یہ افراد سینکڑوں سالوں سے برصغیر کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے تھے۔ نہ صرف ان کا مذہب الگ الگ تھا، بلکہ بولیاں بھی جدا جدا تھیں۔ قبیلہ سے وابستہ رہنے کی انسانی فطرت کے تحت انہوں نے مختلف علاقوں میں اپنے آپ کو لسانی اور علاقائی بنیادوں پر گروہوں اور جماعتوں کی صورت میں منظم کیا۔

 

کھتری دائرہ اسلام میں شامل ہونے لگے:
ظہوراسلام کے تھوڑے عرصے بعد اسلام کی روشنی برصغیر کے ساحلوں تک پہنچنے لگی، تو کھتری بھی اس سے فیضیاب ہونے لگے۔ سن دو ہجری میں ملتان کے قریب کھتریوں کی ایک چھوٹی ریاست کنگن پور کے والی رائے ہنس پال کے بیٹے رائے چاؤلہ اور لڑکی کماری کنگن ورت نے اسلام قبول کرلیاتھا۔ پھر پانچویں صدی ہجری (بارہویں عیسوی صدی) میں خواجہ غریب نواز نے پنجاب اوراترپردیش، یوپی وآس پاس کے لوگوں کو اسلام کے نور سے فیضیاب کیا


اس طرح رفتہ رفتہ یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا، اورخاص کر سندھ میں بزرگان دین کی تعلیمات سے متاثر ہوکر وہاں کے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ان میں مخدوم نوح ہالائی، حضرت عبداللہ شاہ اصحابی، حضرت پیر پگاڑہ، حضرت پیر جھنڈاوالا، حضرت شاہ محمد زمان اول، حضرت شاہ مبین، ملاکاتیار کے گدی نشین پیر صاحبان ودیگر بزرگان دین کی شب وروزکوششیں قابل قدرہیں۔

کھتریوں کی نکھیں (گوتیں):
پنجاب، سندھ ، کچَھ اور کاٹھیاوار کے قدیم قبیلوں اور جماعتوں کے افراد اپنے قبیلوں اور جماعتوں میں رہتے ہوئے اپنی الگ شناخت اپنے آبائی شہر یا گاؤں کے حوالے سے کرتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ نکھ یا گوت کا حوالہ بھی استعمال کرتے ہیں۔

نکھ یا گوت کیا ہے، اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے۔ قدیم اوائلی زمانے میں حکومت ، پولیس یا فوج نہیں تھی ۔ لوگ اپنی اور اپنے مال مویشی کی حفاظت خود کیا کرتے تھے۔ مشترکہ خاندان میں رہنے والے افراد ہی مل کریہ ذمہ داری خود پوری کرتے تھے۔

مشترکہ خاندان یا کنبے کی حیثیت سے رہنے سے بھی جب حفاظت غیرتسلی بخش محسوس ہونےلگی، تو قدیم لوگوں نے ایک اور ترکیب آزمائی، اور وہ تھی "گوتر" (نکھ) سسٹم۔ گوتر کا لفظی ترجمہ "ٹاؤن" ہے۔

اس سسٹم کے تحت الگ الگ رہنے والے چھوٹے خاندانوں نے مل کر ایک بڑا گوتر بنایا۔ یہ تمام گوتر اپنے اپنے ناموں سے پہچانے جاتے تھے، اور یہ نام گوتر پتی یا گوتر کے مُکھی، وڈیرہ یا چوہدری کے نام پر رکھے گئے، جیسے آروڑا، چھن چھرا، سنگڑیاں بیڈا، مونڈھا بیڈھا، منچھر، ماندو، آچاریہ کھوآ، گیلا وغیرہ۔

گوتر پتی کی عزت کرنے، اسکے ہر فیصلے کو تسلیم کرنے اور گوتر پر حملے کی صورت میں ہر قسم کی مدد فراہم کرنا گوتر والوں کا فرض تھا۔ گوتر پتی بھی ان کی عزت اور جان ومال کی حفاظت کا ذمہ دار تھا۔

تاریخ کا دھارا بہتا رہا اور گوتر کے مکھیوں نے حفاظت کے علاوہ دوسرے بڑے مسئلوں کےمشترکہ حل کے لئے نظام حکومت کی بنیاد ڈالی ہوگی جس کا سربراہ راجہ یا بادشاہ کہلایا۔


نظامِ حکومت کی تشکیل سے حفاظت کا ذمہ حکومت کے سپرد ہوگیا اب صرف حفاظت کی خاطر گوترمیں رہنے کی ضرورت کچھ کمزور پڑنے لگی۔ اب وہ بہتر روزگار کی تلاش کے لئے وہاں سے نکل کے مختلف گاؤں، دیہات اور شہروں میں بسنے لگے۔

گوتر سسٹم میں آنے سے پہلے وہ اپنے پرانے رہائشی علاقے کی پہچان بھول چکے تھے۔عرصہ دراز تک یہاں رہنےپر وہ یہیں بھائی چارے اور اپنایت کے بندھن میں بندھ گئے۔ مگر اب یہاں سے نکل کے وہ نئے علاقوں میں تو بسے،لیکن گوتر کی پہچان سینے سے لگائے رہے۔

سندھ۔،کچَھ اور کاٹھیاوار کے لوگ آج بھی اپنی اپنی مقامی زبانوں میں گوتر بھائیوں کو اس طرح یاد کرتے ہیں۔ جیسے سندھ میں "گوٹی" یا "گوتری" کہہ کر پکارتے ہیں چونکہ کچَھ اور کاٹھیاوار میں گوت کو "نکھ"کہتے ہیں، اس طرح وہ انہیں"نکھ بھائی" کہہ کریاد کرتے ہیں۔


گوتر سے نکل کر نئےعلاقوں میں بسنے والوں نے اپنے علاقوں کی پہچان اور گوت یانکھ کو اس طرح سے جوڑے رکھا جیسے

 

نکھ

پہچان

مونڈا بیڈا

بھج والا

منچھر یا مچھر

کانڈاکریا

سینگڑیا بیڈا

کھاوڑائی

آروڑا

انجار والا

چھن چھرا

مادھا پوروالا

ماندو

باڈرےوالا

آچاریہ

کانڈلا والا

کھوآ

مندرہ والا

گیلا

گوئروالا

گیلا

پاروانی

 

کھتری سندھ سے کچَھ گئے:
سولہویں صدی عیسوی میں شیرشاہ سوری سے شکست کے بعد مغل شہنشاہ ہمایوں کی دولاکھ کے قریب لشکر سمیت سندھ آمد نے یہاں کی صورتِ حال کوبگاڑ دیا۔ شہرمیں فوجیوں کی لوٹ مار اور غلہ و پینے کے پانی کی قلت سے پریشان ہو کر سندھ میں صدیوں سے آباد کھتری پریشانی کے عالم میں کچَھ، مارواڑ، اجین، (مالوا)اور نیماڑ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جغرافیائی اور علاقائی نسبت سے وہ کچھی کھتری، ہالائی کھتری، مارواڑئی کھتری اور مالوہ کھتری کہلائے۔

انہی دنوں کھتریوں کی سندھ سے کچَھ کی طرف ہجرت ان کے لئے مالی آسودگی کا سبب یوں بن گئی، کہ کپڑے کی رنگائی وچھپائی مہارت کی دھوم ان سے پہلے کچَھ پہنچ چکی تھی، اور کچَھ کے راجا خینگارجی اول ان ہنر مندوں کو کچَھ بلانے کے آرزو مند تھے۔ مغل شہشاہ ہمایوں کی فوج کے سبب پیدا ہونے والی ابتر صورتحال کے پیشِ نظر انھوں نے اعلان کیا کہ کپڑے کی رنگائی و چھپائی میں مہارت رکھنے والے کھتری بلا تردد کچَھ آجائیں، انہیں رہائش و کاروبار کے لئے نہ صرف زمین دی جائے گی، بلکہ تعمیرات وکاروبار کے لئے مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔

یوں سندھ میں آباد پریشان ہنرمند کھتری خینگارجی کی فراخدلانہ پیش کش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچَھ کی طرف ہجرت کر گئے۔

 

کچھی زبان وجود میں آئی:
سولہویں صدی عیسوی میں جب ابتر معاشی صورتحال کے سبب سندھ کے کھتریوں نے کچَھ کی طرف ہجرت کی، تو سندھ میں بولی جانے والی سندھی اور کچھ گجرات میں بولی جانی والی گجراتی زبان نے دونوں طرف کے لوگوں کے لئے دلچسپ صورتحال پیدا کردی گو کہ دونوں اطراف کے لوگوں کی زبانوں میں ایک دوسرے کے لئے مکمل اجنبیت نہ تھی، پھر بھی لہجے اور کئی الفاظ کا فرق ضرور موجود تھا۔

زبانوں کے ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں زبان اپنا راستہ خود بنالیتی ہیں۔ اور یہ ہی کچَھ میں ہوا۔کئی دہائیوں تک سماجی، معاشرتی اور کاروباری میل جول نے سندھی اور گجراتی زبان کے ادغام نے " کچھی" زبان کو جنم دیا۔ یوں کچَھ میں گجراتی اور کچھی، دونوں زبانیں بولی جانے لگیں۔

چوں کہ کچھی بولی میں سندھی زبان کے اثرات نمایاں ہیں، اس بناء پر ماہرِ لسانیات کچھی بولی کو سندھی زبان کی ایک شاخ قرار دیتے ہیں۔

 

تقریباَ تین سو سال بعد کھتری اپنے آبائی وطن سندھ لوٹنے لگے:

زمانہ ہر وقت تغیر کی زدپر رہتا ہے، دیگر ممکنات کے علاوہ یہ تغیر کبھی آبادی کے ایک بڑے حصے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ 

سولہویں صدی عیسوی میں سندھ سے کچِھ ہجرت کر جانے والے کھتری تین سو سال بعد انیسویں صدی عسوی میں اب دوبارہ اپنی آبائی وطن کو لوٹ رہے تھے۔ واپسی کی ان وجوہات میں کچِھ میں آنے والے زلزلے اور قحط، بڑی اہم وجوہ تھیں۔ ان وجوہات نے کاروبار کو بڑی طرح متاثر کیا۔

اتفاق سے انیسویں صدی عسوی کے وسط میں سندھ اور بمبئی میں کاروباری گہما گہمی اور ذرائع روزگار بڑھنے لگے۔ سندھ میں روزگار کےذرائع بڑھنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ سنہ 1839میں برطانیہ نے کراچی میں منوڑے پر واقع حفاظتی قلعے پر گولہ باری کر کے وہاں موجود تالپور حکمرانوں کی طرف سے تعینات چھوٹے سے حفاظتی دستے کو بے دست و پا کر کے کراچی پر قبضہ کرلیا اور اس کے چار سال بعد 1843 میں بقیہ سندھ پر قبضہ کر لیا۔ یوں سندھ کے پیداواری وسائل ان کے قبضےمیں آگئے۔

انگریزوں نے شہری سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ کراچی کی بندرگاہ پر خصوصی توجہ دی۔ کیماڑی میں واقع اتھلے پانی کی بندرگاہ کی جگہ باقاعدہ گہرے پانی کی بندرگاہ تعمیر کی، جس میں ابتداء میں دو گودیاں تعمیرکی گئی۔ اس طرح جہازوں میں سامان لادنے اور اتارنے کے کام میں تیزی آگئی۔


بندرگاہ کی تعمیر سے کراچی کی قسمت ہی بدل گئی، اور یوں کراچی شہر ایک ساحلی گاؤں سے "پورٹ سٹی" میں تبدیل ہوگیا۔ اس سے روزگار کے وسیع ذرائع پیدا ہوئے اور دوسرے پسماندہ علاقوں سے روزگار کی تلاش میں لوگ کراچی آنے لگے۔ ان میں کھتری برادری کے افراد بھی شامل تھے

 

کراچی میں مسلمان کچھی کھتری جماعت کا قیام:
تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ وجدل، امن وامان کی ابتر صورتحال، قحط اور روزگار کے مواقعوں میں کمی وغیرہ انسان کو اپنے آبائی وطن سے ہجرت پر مجبور کردیتے ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورتحال سندھ کے کھتریوں کو درپیش آئی سولہویں صدی عسوی میں وہ امن وامان کی ابتر صورتحال سے پریشان ہو کے سندھ سے کچھ کی جانب روانہ ہوئے اور انیسویں صدی عسوی میں وہ کچھ میں آنے والے زلزلے اور قحط سے پریشان ہو کے دوبارہ سندھ آنے لگے۔ یہاں آکر یہ حیدرآباد، بدین، سجاول اور سندھ کے دیگر اضلاع میں سکونت پذیر ہونے لگے۔ لیکن ان کی اکثریت کا رخ کراچی کی طرف تھا۔

1848 تک کراچی میں کچھی کھتریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد آباد ہو چکی تھی، اور مزید کی آمد جاری تھی۔ کچھی کھتری چوںکہ قبیلہ واری یا جماعتی سسٹم میں رہنے کے عادی تھے۔ لہذا کراچی میں مسلمان کچھی کھتریوں کی خاصی تعداد ہو جانے پر 1850 میں "مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی" کی بنیاد رکھی گئی۔

جماعت کے قیام کے بعد رفتہ رفتہ جماعت کے انتظامی امور کو سنبھالنے اور ممبران کو سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ پچاس سالوں تک چند افراد یہ خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم 1901 میں جماعت کی باقاعدہ اگیوان کمیٹی تشکیل پائی۔ بعد کے مختلف ادوار میں تشکیل پانے والی اگیوان کمیٹیوں نے ممبران جماعت کے تعاون سے کامیابی کی کئی منزلوں کوسر کیا

 

تحریکِ پاکستان میں کراچی کی مسلمان کچھی کھتری برادری کا تاریخی کردار:
پاکستان کا قیام ایک طویل جدوجہد اور مسلسل صبر آزما کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس تحریک نے مسلمانوں کے تمام طبقوں اور فرقوں نے بے لوث اور مخلصانہ طور پر، جس طرح بھی بن پڑا اس جدوجہد میں حصہ لیا اور قربانیاں دیں۔

 

اس عمل میں کراچی میں آباد دیگر برادریوں کے ساتھ مسلم کچھی کھتری برادری نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور حصول پاکستان کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔
کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اکتیسواہ سالانہ اجلاس جو 22 تا 23 دسمبر 1943 کو آرٹلری میدان میں منعقد ہوا تھا جس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمائی تھی۔ مسلم لیگ کی کراچی شاخ نے قائد اعظم کو اس اجلاس تک پہنچانے کے لئے وزیر مینشن کھارادر سے آرٹلری میدان تک ایک جلوس کا اہتمام کیاتھا، جسے لی مارکیٹ کھتری کمپائونڈ نئپیر روڈ سے ہوتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچانا تھا۔

 

مسلمانوں کی جانب سے کراچی کی تاریخ کا یہ بےمثال اور تاریخی جلوس تھا۔ اس میں سب سے آگے مسلم لیگ کے ایک ہزار نیشنل گارڈز تھےجو ہندوستان کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے تھے۔ اس کے بعد مختلف بینڈز رضاکاروں کے متعدد گروپ، مسلم اکھاڑوں کے کرتب دکھاتے دستے اور اسکاوٹ گروپس چل رہے تھے۔
ان دستوں کے پیچھے تقریبآ ایک سو موٹر کاروں کی ایک طویل قطارتھی۔ ان گاڑیوں میں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبران، صوبائی عہدیدار اور سینٹرل پارلیمنٹ کے ممبران بھیٹے ہوئے تھے۔

 

کاروں کی قطار کےبعد بڑی خوبصورتی سے سجی ایک اونٹ گاڑی تھی جس میں قائد اعظم محمد علی جناح تشریف فرما تھے۔ یہ اونٹ گاڑی خشکی پر چلتہ ہوا بحری جہاز معلوم ہورہا تھا۔

 

کھتری برادری کے رضاکاروں اور سماجی کارکنان نے اپنے محلے کے راستوں کو جہاں سے قائداعظم کو گزرنا تھا، انتہائی شاندار طریقے سے سجایا تھا۔ یہ سجاوٹ ایک ہفتے قبل سے شروع کردی گئ تھی۔ محراب نماء استقبالی دروازے، رنگ برنگی جھالریں، موتیوں کی لڑیاں، دیواروں پر سجے رنگ برنگے سوت کے لچھے، کھتریوں کے خصوصی ہنر چنری اور باندھی کے نمونے اور رنگ برنگے کاغذ اور کپڑے کے جھنڈوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔

 

جس دن قائداعظم کو اس علاقے میں آناتھا، کھتری برادران علی الصباح ہی سے قطاریں باندھ کر اپنے عظیم قائد کا استقبال کرنے کے لئے مستعد کھڑے ہو گئے تھے۔ جب جلوس کھارادر، ککری گراؤنڈ سے گزر کے لیمارکیٹ پہنچا تو مسلم کچھی کھتری برادری نے قائد اعظم کی سجی ہوئی اونٹ گاڑی "کھتری حاجی قاسم اسحاق ہرنی والا بلڈنگ" کے پاس پروگرام کے تحت رکوائی اور ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس وقت قائداعظم گاڑی پر رکھی ہوئی کرسی پر تشریف فرما تھے۔

 

مسلمان کچھی کھتری برادری کی جانب سے جماعت کے اعزازی جنرل سیکریٹری کھتری ابراہیم حاجی آدم یعقوبانی عرف ڈاڈا سیٹھ نے قائد اعظم کو پھولوں کا ہار پہنایا اور چاندی کی پلیٹ پر رکھ کے سپاس نامہ پیش کیا۔ جماعت کے صدر کھتری ہاشم ہارون پریس والا نے قائداعظم پر پھول نچھاور کئے اور ایک مخملی تھیلی پیش کی جس میں چاندی کے ایک ہزار روپے تھے۔ تالیوں کی گونج میں قائد اعظم نے وہ تھیلی بعد احترام قبول فرمائی، اور جماعت کے دونوں معزز عہدیداروں سے مصافحہ کیا۔ اس وقت کھتری برادری کے چہرے فرحت ومسرت کے جذبات سے دمک رہے تھے۔ بعدازاں قائد اعظم نے سپاس نامہ کے جواب میں فرمایا:

 

"میں اپنے اس پرجوش استقبال اور آپ کے اس پرخلوص عطیے کے لئے تمام مسلم کچھی کھتری برادری کا مشکور ہوں۔ آپ حضرات نے اپنے علاقے میں جو عزت اورشرف مجھے بخشاء ہے، اور لیگ کے فنڈمیں جویہ عطیے کی تھیلی پیش کی ہے وہ قیام پاکستان کی تحریک اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے لئے آپ کے پرجوش جذبہ کی عکاسی کرتی ہے"۔

 

اس تاریخی استقبال کے دوسال بعد 1945 میں مسلم لیگ کا ایک عظیم والشان جلسہ مسلمان کچھی کھتری برادری کے ریر اہتمام کھتری محلہ، نزد نزد ترک ریورروڈ پر منعقد ہوا تھا ۔ ہاشم گذدرکے تعاون سے قائداعظم کو دعوت نامہ بھیجا گیا، جسے انھوں نےشرفِ قبولیت بخشا اور ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔

 

قائد اعظم نے کھتری برادری میں حصول پاکستان کی تحریک میں نمایاں حصہ لینے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا:

میں مسلمان کچھی کھتری برادری کے سربراہوں، کارکنوں اور آپ سب حضرات کا شکر گزار ہوں۔ آپ بھی پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں برابر کے شریک ہیں۔ میں تمام لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں، کہ مسلم لیگ چند افراد کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں اور اقلیتوں کے مفاد کےمفاد کے حفاظت کے لئے وجود میں آئی ہے۔ مسلمانوں نے اب تک کسی سیاسی تحریک میں عملی طور پرحصہ نہیں لیا تھا،لیکن اب بچے، جوان اور بوڑھے سبھی اس جدوجہد میں شریک ہیں۔ اس نڈر اوربے باک قوم کو چاہیئے کہ وہ متحد ہو کر جدوجہد کرے۔ برادران! یہ وقت تعمیری کام، بے غرض، بےلوث ادائیگی فرض کا ہے۔آپ کو اپنے قول اور فعل دونوں سے اپنے عوام میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ انہیں یہ محسوس کرائیےکہ وہ ایک مقصد عظیم کے کام کررہے ہیں۔مسلم لیگ مسلمانوں ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے، بلک اس کا دسترخوان ہر فرقے اور ہر برادری کے لئے بچھا ہوا ہے۔وہ یر فرقے کے حقوق کے تحفظ کو اپنا فرض اولین سمجھتی ہے"۔

تحریرو تحقیق
کھتری عبدالغفور کانڈاکریا

 

 

Bibliography


کھتری قوم جی تاریخ (سندھی)

کھتری عصمت علی پٹیل

 

تحریک پاکستان اور کھتری برادری

کھتری عصمت علی پٹیل

 

کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی

کھتری عبدالغفور کانڈاکریا

 

قدیم سندھ

بھیرومل میرچند ایڈوانی

 

تاریخ اوکھائی میمن برادری

عبدالعزیز اسمٰعیل مرکٹیا

 

کچھین جا قول (سندھی)

محمد سومار شیخ

 

Sindh. A General Introduction

H.T. Limberk

 

اساس کھتری قوم (مجلہ)

آگیوان کمیٹی، مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی (سن 1980)

 

دانش کدہ

مسلم کچھی کھتری بزم تعلیم کراچی۔ (سن 1995)

 

مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی کے انتظامی امور، سماجی اور علمی و ادبی تنظیموں کے قیام ودیگر امور کے بارے میں مختصر معلومات:

 - سن 1850میں "مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی" کی بنیاد رکھی گئی۔

 - سن 1901 میں جماعت کی باقاعدہ "اگیوان کمیٹی" کی بنیاد رکھی گئی۔

- سن 1932 میں جماعت خانہ کے لئے لڈبٹر روڈ پر 1115 گز کا ایک پلاٹ خریداگیا۔

 - سن 1936 میں جماعت کی جنرل میٹینگ اور اگیوان کمیٹی کی میٹینگ کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کے لئے مینٹس بک لکھنے کی ابتداء کی گئی۔

 - سن 1942 میں قبرستان کے لئے مونسپل کارپوریشن سے نئی زمین لی گئی۔

 - سن1942 میں جماعت میں پیداہونے والے بچوں کی پیدائش اور اموات کا باقاعدہ رجسٹر رکھنے کا آغاز کیا گیا۔

 - سن1943 مٰیں جماعت

 - سن1949 میں جماعت کے پلاٹ میں پہلی جنرل میٹینگ، مورخہ اکیس جنوری 1949 کو منعقد کی گئی

 - سن 1953 میں جماعت کا دفتر جماعت خانہ کے پلاٹ میں قائم کیا گیا۔اس سے قبل جماعت کا باقاعدہ آفس نہں تھا۔

 - سن 1953 میں جماعت کی نقد رقم بینک میں رکھنے کے لئے اکاؤنٹ کھلوایا گیا۔

 - سن 1954 میں جماعت کی باقاعدہ سالانہ مردم شماری اور ممبرشپ فارم کے اندراج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

 - سن 1958 میں جماعت میں ہونے والی منگنی اور شادی کا باقاعدہ اندراج رجسٹر رکھا گیا۔

 - سن 1961 میں قبرستان کی نئی زمین کی گرد دیوار بنوائی گئی۔

 - سن 1962 میں جماعت خانے کی زمین پر نئی عمارت کی بنیاد مورخہ 15 اپریل 1962 کے روز بدست عمر عبداللہ والا نے رکھی گئی۔

 - سن 1962 میں جماعت میں ہونے والی تمام شادیاں جماعت خانے میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 - سن 1963 میں جماعت کے لئے کفن کیرئیر بس خریدی گئی، اور کفن دفن کے سامان کا انتظام کیا گیا۔

تحقیق و ترتیب:
کھتری عبدالستارآدم کوڑائے والا

ماخوذ از

ماہنامہ کھتری عالم (گجراتی)

پندرہ روزہ کھتری بلیٹن (گجراتی)

مسلمان کچھی کھتری ایجوکیشنل سوسائٹی کی آخری رپورٹ (گجراتی)

کھتری اتہاس (گجراتی)

اساس کھتری قوم (مجلہ)آگیوان کمیٹی، مسلمان کچھی کھتری جماعت کراچی (سن 1980) (اردو)

 

جماعت کی بابت دیگر معلومات:

 - سن 1910 میں کراچی میں "انجمن اشرف الاسلام" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ یہ ادارہ ہر سال جونا مارکیٹ کے چوک پر عیدمیلادالنبی اور گیارھویں شریف کی مجالس منعقد کرتا تھا۔اس ادارے نے تقریبآ 25 سال تک باقاعدگی کے ساتھ کام کیا۔

 - سن 1920 میں نارتھ نیپئر روڈ پر "کھتری اسلامی مدرسہ" اسکول قائم کیا گیا جس کے بانی کھتری سلیمان داؤد مندرہ والا تھے۔

 - سن 1925 میں "انجمن محبوب سبحانی" کی بنیاد رکھی گئی۔

 - سن 1931 میں "شبینہ مدرسہ آفتاب الاسلام" کی بنیاد رکھی گئی۔

 - سن 1947 میں "مسلمان کچھی کھتری ایجوکیشنل سوسائٹی" کی بیناد رکھی گئی جس کے بانی حاجی ابراہیم حاجی صدیق ماسٹر تھے۔

 - سن 1950 میں"مسلم کچھی کھتری ایسوسی ایشن" کی بنیاد رکھی گئی۔

 - سن 1960میں "مسلم کچھی کھتری بزم تعلیم" کی بیناد رکھی گئی۔

 - سن 1969 میں "ینگ کھتری اسٹوڈینٹس آرگنایزیشن" کا قیام عمل میں لایا گیا۔

ماخوذ از

کھتری اتہاس (گجراتی)

دانش کدہ مسلم کچھی کھتری بزم تعلیم کراچی۔ (سن1995)